بٹگرام: گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے شہر بٹگرام میں چیئر لفٹ کی رسی ٹوٹنے کے باعث 7 طلبہ اور 1 استاد کئی گھنٹے ہزاروں فٹ بلندی پر پھنسے رہے جن کو ریسکیو کرنے کیلئے کئی مشکلات پیش آئیں۔
اکثر لوگ اس کامیاب ریسکیو آپریشن کے بارے میں جاننے کی خواہش رکھتے ہیں تو ایسے میں اُن کی معلومات میں اضافہ کرنے کیلئے آپ کو اس رپورٹ میں بتائینگے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران کیا کیا ہوا؟
ضلع بٹگرام کے علاقے پاشتو میں صبح کے ساڑھے چھ بجے اسکول کے 7 طلبہ جہانگیری خوڑ کا نالہ عبور کرنے چیئر لفٹ پوائنٹ پہنچے، ان کے ہمراہ استاد گلفراز بھی ڈولی میں سوار ہوئے اور سب کی ایک ہی منزل دو ہزار فٹ گہری کھائی کے پار سیکنڈری اسکول تھی۔
ڈولی ابھی ایک میل ہی چلی تھی اس کی ایک تار ٹوٹ گئی اور ڈولی زمین سے ہزاروں فٹ بلند فضا میں معلق ہوگئی اسی دوران ڈولی کی دوسری رسی بھی ٹوٹ گئی جس سے وہ ڈگمگانے لگی اور اس میں موجود طلبہ کی چیخیں نکل گئیں تاہم استاد گلفراز نے ان کا حوصلہ برقرار رکھنے کے لیے اپنے حواس کو بحال رکھا۔
بٹگرام حادثہ، خیبرپختونخوا حکومت کا صوبے بھر کی چیئر لفٹس کے معائنے کا حکم
اب ڈولی ایک رسی کے سہارے لٹک رہی تھی، گلفراز نے 8 بجے کے قریب اسکول فون کر کے حادثے کی اطلاع دی۔ جب بات پھیلی تو انتظامیہ کو سوا نو بجے ہوش آیا۔ انتظامیہ کی درخواست پر آرمی ہیلی کاپٹر پہنچے تو اس وقت تک بچوں کو پھنسے پانچ گھنٹے گزرچکے تھے اور اطلاعات کے مطابق دو بچے مارے خوف کے بے ہوش بھی ہوچکے تھے۔
پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر نے دوپہر ڈھائی بجے سے شام چار بجے تک دو بار ڈولی تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن تیز ہوائیں آڑے آگئیں۔ اس دوران ایس ایس جی کمانڈوز نے بچوں تک کھانے پینے کا سامان اور دوائیاں پہنچائیں۔
اس آپریشن کے دوران ریسکیو ٹیموں نے ہمت نہ ہاری اور حادثے کے لگ بھگ 12 گھنٹے بعد ساڑھے 6 بجے بالآخر پہلے بچے کو ریسکیو کر کے بحفاظت زمین پر اتار لیا گیا۔ جی او سی ایس ایس جی ریسکیو کی زیر نگرانی کوششوں کے دوران چوتھے سلنگ آپریشن میں بچے کو ریسکیو کیا گیا۔ ہیلی کاپٹر سے رسی پھینک کر ڈولی تک پہنچائی گئی اور ڈولی میں موجود بچے نے بیلٹ کے ذریعے رسی کمر پر باندھی جس کے بعد بچہ ٖڈولی سے فضا میں جھولتے ہوئے زمین تک پہنچ گیا۔
شام کے بعد خراب موسم اور اندھیرا ہونے پر ہیلی کاپٹروں کا آپریشن روک دیا گیا تاہم متبادل ذرائع سے آپریشن جاری رکھا گیا، ایک اور چھوٹی ڈولی کو اسی تار پر ڈال کر متاثرہ ڈولی کے قریب لایا گیا، اس کے بعد ایک ایک کر کے افراد کو ریسکیو کیا گیا، شمالی علاقہ جات سے لوکل کیبل کراسنگ ایکسپرٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔
پاک آرمی کی کوششیں رنگ لائیں اور اس نے مقامی افراد کے تعاون سے پھنسے تمام افراد کو لگ بھگ 16 گھنٹوں کے بعد بحفاظت ریسکیو کرلیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








