ماہرین نے ‘نیلی ہائیڈروجن’ کو کوئلے سے زیادہ ماحول دشمن قرار دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ماہرین نے 'نیلی ہائیڈروجن' کو کوئلے سے زیادہ ماحول دشمن قرار دے دیا
ماہرین نے 'نیلی ہائیڈروجن' کو کوئلے سے زیادہ ماحول دشمن قرار دے دیا

نیلی ہائیڈروجن کوئلے سے کیسے زیادہ خطرناک ہے اس کے لیے کورنیل یونیورسٹی میں ماحولیات اور ماحولیاتی حیاتیات کے ماہر پروفیسر رابرٹ ہووارتھ اور اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں تعمیراتی اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر مارک جیکبسن نے مشترکہ تحقیق کی ہے۔

اپنے دعوے کو سچا ثابت کرنے کے لیے انہوں نے نیلی ہائیڈروجن بنانے کے عمل سے وابستہ ’’کاربن نقشِ قدم‘‘ (کاربن فُٹ پرنٹ) کا تجزیہ کیا۔ کاربن فُٹ پرنٹ سے مراد کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وہ مجموعی مقدار ہے جو کسی بھی عمل میں اکائی پیمانے پر خارج ہوتی ہے۔ یعنی اگر کسی عمل میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوگی تو اس کےلیے کاربن فُٹ پرنٹ بھی بڑا تصور کیا جائے گا۔

اوپن ایکسیس ریسرچ جرنل ’’انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں چھپنے والی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نیلی ہائیڈروجن بنانے کا کاربن فُٹ پرنٹ، قدرتی گیس یا کوئلے کو براہِ راست جلانے کے مقابلے میں بھی 20 فیصد بڑا ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ حصولِ حرارت کےلیے ڈیزل جلانے کے مقابلے میں بھی نیلی ہائیڈروجن کا کاربن فُٹ پرنٹ 60 فیصد بڑا دیکھا گیا۔

دوسری طرف امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، بلیو ہائیڈروجن کی تیاری میں پہلا مرحلہ گرمی، بھاپ اور دباؤ کی مدد سے میتھین کو ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے آمیزے میں بدلنے کا ہوتا ہے۔ تب اسے ’’سرمئی ہائیڈروجن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اگلے مراحل میں اس آمیزے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری کثافتیں الگ کرکے ’’نیلی ہائیڈروجن‘‘ حاصل کرلی جاتی ہے۔

ہووارتھ اور جیکبسن نے اپنے مقالے میں بتایا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور دوسرے ضروری امور انجام دینے کےلیے بھی ایندھن استعمال کیا جاتا ہے جو بجائے خود کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کا سبب بنتا ہے۔

دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’نیلی ہائیڈروجن‘‘ پر کام آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں اس کے تمام پہلوؤں کو بغور دیکھنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ماحول کو بچاتے بچاتے اسے نقصان پہنچا دیں۔

یہ بھی پڑھیں: اداکار یاسر نواز نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا، سیریلز کی ہدایتکار اور پروڈکشن بند کردی

Related Posts