پاکستان میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن کیوں؟ پس منظر، حقائق اور اسباب

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن کیوں؟ پس منظر، حقائق اور اسباب
پاکستان میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن کیوں؟ پس منظر، حقائق اور اسباب

پاکستان میں گزشتہ روز رات گئے بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا، چھوٹے بڑے شہر اور دیہاتی علاقے تاریکی میں ڈوبتے چلے گئے اور ملک بھر میں بلیک آؤٹ کی سی صورتحال پیدا ہوئی جس پر قابو پانے کا سلسلہ جاری ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی کا یہ بڑا بریک ڈاؤن کیوں ہوا؟ اس کا پس منظر کیا ہے؟ آئیے ماضی میں بجلی کی پیداوارکی تاریخ سے شروع کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ بجلی کی قلت کیوں پیدا ہوتی ہے اور اگر سردیوں کے دوران یہ صورتحال ہے تو آئندہ گرمیوں میں کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔

 پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے ذرائع

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان 5 بڑے ذرائع سے بجلی پیدا کرتا ہے۔ پانی، تھرمل (تیل، قدرتی گیس، کوئلہ)، ہوا، شمسی توانائی اور ایٹمی توانائی۔

سب سے سستا ذریعہ پانی سے بجلی پیدا کرنا تھا جس کیلئے آبی ذخائر کی تعمیر ضروری تھی، تاہم ایسا نہیں کیا گیا اور آج ہم مہنگی ترین بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ 

ضرورت سے زائد بجلی پیدا کرنے کی گنجائش

گزشتہ برس 22 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ملکی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے جو اگر استعمال نہ ہو تو بچ رہنے والی بجلی کی قیمت بھی حکومت کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

اس سے نہ صرف ملکی خزانے پر بھاری بوجھ پڑتا ہے بلکہ عوام کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی بھی کوئی راہ ہموار ہوتی نظر نہیں آتی۔ اضافی بجلی کی گنجائش ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ایک بڑا تضاد نظر آتا ہے۔

گزشتہ مالی سال کے اکنامک سروے کے مطابق پاکستان 35 ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم بجلی کی کھپت 10 سے 24 ہزار میگا واٹ ہے تاہم بجلی کی پیداکار کمپنیاں ضرورت سے زائد بجلی استعمال نہ ہونے کے باوجود فوائد حاصل کرتی ہیں۔

تیل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والی کوئی کمپنی اگر بجلی پیدا نہ بھی کرے تو حکومت کو اس کی پیداواری صلاحیت کے مطابق رقم فراہم کرنا ہوگی۔ سن 2013ء میں پاکستان کی پیداواری گنجائش 22 ہزار میگا واٹ تھی اور 7 سال میں پاکستان کی بجلی پیداوار کی استعدادِ کار میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔ 

کوئلے سے کتنی بجلی پیدا کی جاتی ہے؟

سال 20-2019ء کے دوران کوئلے کی مدد سے 25 ہزار 966 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی گئی جبکہ اس سے قبل 19-2018ء کے دوران 16 ہزار 725 گیگا واٹ بجلی کی پیداوار کوئلے سے حاصل کی گئی تھی۔

تھرمل جنریشن میں سال 20-2019ء کے دوران کوئلے سے حاصل کردہ بجلی کا تناسب 31 اعشاریہ 84 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سال 19-2018ءکے دوران یہ تناسب 18 اعشاریہ 71 جبکہ 18-2017ء کے دوران صرف 13 اعشاریہ 29 فیصد رہا۔ 

کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کے مزید پلانٹس نہ لگانے کا فیصلہ

وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ سال 12 دسمبر کو ماحولیاتی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئلے سے چلنے والے مزید پاور پلانٹس نصب نہیں  کریں گے۔ ہم پہلے ہی 2 پاور پلانٹس کے منصوبے ختم کرچکے ہیں جن سے 260 میگا واٹ توانائی پیدا ہونا تھی۔

ماحولیاتی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ سن 2030ء تک کل توانائی کا 60 فیصد متبادل ماحول دوست ذرائع سے حاصل کیا جائے گا جبکہ 30 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی۔ 

کرپشن کی صورتحال 

پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان کے مطابق پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے بڑا دریائی نظام رکھتا ہے جہاں پن بجلی کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ 46 ہزار میگا واٹ ہے۔ ہم صرف اس کا 14 فیصد پیداواری حصہ استعمال کرتے ہیں۔

تقریباً 4 ہزار 500 میگا واٹ بجلی پنجاب کے دریاؤں پر سستے پن بجلی گھروں سے حاصل کی جاسکتی ہے تاہم گزشتہ 30 سال میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہوئیں۔

سن 1984ء میں پاکستان تقریباً 59 اعشاریہ 3 فیصد بجلی پن بجلی گھروں سے پیدا کرتا تھا، اسی طریقے سے مزید بجلی پیدا کی جاسکتی تھی، کیونکہ یہ طریقہ سب سے سستا تھا۔ تاہم کرپٹ رہنماؤں نے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے تیل سے چلنے والے مہنگے پلانٹس لگانے کا فیصلہ کر لیا۔

آگے چل کر 1990ء تک پن بجلی کا استعمال کم ہو کر 45 فیصد پر آگیا۔ مستقل بدعنوانی کے باعث پن بجلی کی شرحِ پیداوار صرف 29 اعشاریہ 3 فیصد رہ گئی ہے جبکہ تیل کا استعمال 37 اعشاریہ 8 اور گیس کا استعمال 30 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

متعدد مرتبہ وسیع پیمانے پر بند اور آبی ذخائر تعمیر کرنے کی بجائے اسے ملتوی کرکے تیل کی بنیاد پر چلنے والے بجلی گھر درآمد کرکے نصب کیے گئے، جس سے بجلی کی قیمتیں ہوش ربا سطح تک جا پہنچیں۔ 

لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ 

گرمیوں کے دوران لوڈ شیڈنگ تو ایک معمول کی بات بن چکی ہے تاہم آج کل سردیوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس کا سامنا کراچی سمیت پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں کسی نہ کسی سطح پر عوام کو ہورہا ہے۔

لوگ گھروں میں پنکھے چلائیں یا فیکٹریوں میں روزگار کیلئے بجلی استعمال کی جائے، ہر صورت میں لوڈ شیڈنگ کرکے عوام کا وقت اور پیسہ برباد کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ مہنگی بجلی ہے جو حکمرانوں کی بدعنوانی کے باعث عوام کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔

ہر سال گرمیوں کے موقعے پر بد ترین لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے جس کا دورانیہ 1 اور 2 گھنٹے سے لے کر 8، 8 گھنٹے تک رکھا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں تکنیکی خرابی کا بہانہ بنا کر بھی عوام کو بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے۔ 

بریک ڈاؤن کیوں ہوا؟

ہفتے کی رات پاکستان بھر میں بریک ڈاؤن ہوا جس کی وجوہات کا تعین کیا جارہا ہے۔ وفاقی وزیرِ توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان، جھنگ اور کراچی کے کئی علاقوں میں بجلی بحال کردی گئی ہے۔

وزیرِ اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران عمر ایوب نے کہا کہ 11 بج کر 41 منٹ پر رات کے وقت گدو کے پاور پلانٹ پر خرابی پیدا ہوئی اور صرف 1 سیکنڈ میں فریکوئنسی 50 سے صفر پر آگئی تھی۔ ہم نے تربیلا کو ری اسٹارٹ کیا اور بجلی کی بحالی کا عمل شروع ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ خرابی ملک بھر کے پاور پلانٹس میں نہیں بلکہ ایک مخصوص جگہ پر آئی جس کی وجہ سے پورا سسٹم شٹ ڈاؤن ہونا شروع ہوگیا۔ بجلی کا نظام مستحکم ہے اور دھند ختم ہونے کے بعد تکنیکی خرابی کی اصل وجہ اور مقام معلوم ہوسکے گا۔ 

Related Posts