برطانوی فرم براڈ شیٹ کے انکشافات اور لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی، حقائق کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں برطانوی فرم براڈ شیٹ کا ذکر کیا جس کے بعد یہ معاملہ اتنی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آج پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اس کا نوٹس لینا پڑا جبکہ سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی بھی اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہ سکے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے برطانوی فرم براڈ شیٹ کو سابقہ حکمرانوں کی منی لانڈرنگ پر تحقیقات کا ٹاسک دیا تھا، براڈ شیٹ کیا ہے، حکومت کو براڈ شیٹ معاملے پر کروڑوں روپے جرمانہ کیوں ادا کرنا پڑا؟ اور براڈ شیٹ کے موجودہ بیانات کیا کہتے ہیں؟ آئیے تمام تر حقائق پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

براڈ شیٹ اور جنرل (ر) مشرف کا دورِ حکومت

سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں حکومتِ پاکستان نے براڈ شیٹ نامی برطانوی کمپنی سے رابطہ کیا۔ کمپنی کو مجموعی طور پر 200 اہم شخصیات کے خلاف تحقیقات کا ٹاسک دیا گیا۔

مذکورہ شخصیات میں سیاستدان، بیوروکریٹس، تاجر اور فوجی افسران شامل تھے جو بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث تھے۔ معاہدہ یہ طے پایا کہ بدعنوانی کا جتنا بھی پیسہ پاکستان واپس لایا جائے گا اس کا 20 فیصد براڈ شیٹ کو ادا کیا جائے گا۔

سن 2000ء میں براڈ شیٹ نے منی لانڈرنگ کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔ اس وقت جنرل امجد نیب کے سربراہ تھے جو کچھ وقت کے بعد عہدہ چھوڑ کر چلے گئے، نئے چیئرمین نے جب براڈ شیٹ سے رابطہ کیا تو سیاسی تقاضے بدل چکے تھے۔

نئے سیاسی تقاضوں کے تحت چیئرمین نیب نے بعض اہم شخصیات کے خلاف تحقیقات بند کرنے کا مطالبہ کیا تو براڈ شیٹ  نے 20 فیصد کمیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری درمیان میں بند نہیں کی جاسکتی۔ 

نیب کا سنگین اقدام اور بھاری جرمانہ 

جب براڈ شیٹ نے نیب کی بات نہ مانی تو سن 2003ء میں جنرل مشرف کے دور میں ہی قومی احتساب بیورو نے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا جو غیر قانونی تھا۔ براڈ شیٹ نے نیب کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں کیس دائر کردیا۔

عدالت نے براڈ شیٹ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے نیب پر 4 ارب 38 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا تاہم صرف یہی رقم نہیں جو پاکستان کو ادا کرنی پڑی بلکہ نی وکیل، قانونی فرم کی فیس اور سود سمیت یہ رقم 7 ارب 18 کروڑ تک جا پہنچتی ہے۔ 

مریم نواز کا ٹوئٹر پیغام اور براڈ شیٹ کا ردِ عمل

قومی احتساب بیورو پر جرمانہ عائد ہونے کے بعد مریم نواز نے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے کہا کہ نیب ہار گیا جس کے مکروہ چہرے اور احتساب کی حقیقت سب کو پتہ چل گئی ہے، اب احتساب کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔

دوسرے پیغام میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ براڈ شیٹ کمپنی کو نواز شریف کے خلاف مقدمات کا پتہ چلانے کیلئے 2 کروڑ 87 لاکھ ڈالر ادا کرنے کے باوجود اقاموں اور جج ارشد ملک کا سہارا لینا پڑ گیا۔ نواز شریف صادق اور امین ہیں جس کی گواہی قدرت سے سامنے آگئی۔

یہ بیان سامنے آتے ہی براڈ شیٹ کمپنی کے سربراہ کاوی موساوی نے نواز شریف کو اپنے ایک انٹرویو کے دوران جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف بے گناہ نہیں ہیں، ان کے ایک رشتہ دار انجم ڈار نے ہمیں 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رشوت دے کر تفتیش روکنے کی کوشش کی۔ براڈ شیٹ کا کہنا تھا کہ مجرموں سے گفتگو نہیں کی جاسکتی۔

سربراہ براڈ شیٹ نے کہا کہ پاکستان کے حکمران جھوٹے ہیں جنہیں عوام کے دکھ درد کا کوئی احساس نہیں کیونکہ یہ سیاستدان کمیشن خور، جھوٹے اور رشوت خور ہیں۔ 2017ء کی گرمیوں میں ہم نے پاکستانی حکومت کو بتیا تھا کہ ایک اکاؤنٹ میں 1 ارب ڈالر سے زائد رقم پڑی ہوئی ہے۔

مذکورہ رقم کے بارے میں سربراہ براڈ شیٹ نے کہا کہ سن 2016ء میں یہ 1 ارب ڈالر ایک خلیجی ملک سے اس اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔ معلوم نہیں اکاؤنٹ کا مالک کون ہے لیکن تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کسی کو کوئی پروا نہیں۔ 

شاہد خاقان عباسی کا بیان 

سابق وزیرِ اعظم اور ن لیگ کے مرکزی سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انجم ڈار کے خلاف حکومت کو چاہئے کہ مقدمہ درج کرا دے۔ میں انجم ڈار کو نہیں جانتا۔

براڈ شیٹ کے حق میں برطانوی عدالت کے جرمانے پر مبنی فیصلے کے متعلق شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ یہ فیصلہ پبلک ہونا چاہئے، رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت ہم اس کی اپیل بھی کریں گے۔ 

خفیہ معاملات اب عوام کے سامنے 

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ براڈ شیٹ سے رابطوں اور جرمانے تک تمام معاملات کو خفیہ رکھا گیا تھا جو مریم نواز کے ٹویٹ اور براڈ شیٹ کے انٹرویو کے بعد عوام کے سامنے آ گئے۔

ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کا یہ مطالبہ کہ براڈ شیٹ کے حق میں عدالتی فیصلے کو پبلک کیا جائے، اس سے بھی نیب جیسے ادارے اور حکومتی ساکھ خطرے میں پڑتی نظر آتی ہے جبکہ براڈ شیٹ کے الزامات زیادہ تر مبنی بر حقیقت دکھائی دیتے ہیں جن میں حکومت اور اپوزیشن سمیت ہر سیاسی رہنما کسی نہ کسی حد تک قصور وار ہے۔ 

عظمیٰ بخاری اور شہزاد اکبر کی قانونی جنگ 

مشیرِ داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے ن لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کے ایک الزام کے جواب میں انہیں 50 کروڑ روپے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھیج دیا۔

شہزاد اکبر پر عظمیٰ بخاری نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے براڈ شیٹ سے غیر قانونی طور پر کمیشن طلب کیا تھا۔ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ عظمیٰ بخاری سے حاصل کی گئی رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی۔ 

ارشاد بھٹی کا بیان 

پاکستان کے سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے مطابق براڈ شیٹ کا یہ بیان درست ہے کہ نب کے ملزمان کو وزیر بنا دیا گیا۔ براڈ شیٹ جن لوگوں کے اثاثے منظرِ عام پر لا رہا تھا، اگر وہ عوام کے سامنے آجاتے تو آج احتساب کی سمت درست ہوتی۔

تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے مطابق براڈ شیٹ کو کام کرنے دیا جاتا تو آج کافی لوگ جیلوں میں موجود ہوتے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونے دیا گیا۔ سیاسی مفادات احتساب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے۔

ایک سوال کے جواب میں ارشاد بھٹی نے کہا کہ وہ 1 ارب ڈالر کا اکاؤنٹ کس کا تھا؟ یہ معلومات فی الحال نہیں دی جاسکتی، ابھی اِس بات کا وقت نہیں آیا کہ اکاؤنٹ ہولڈر کا نام پبلک کیا جائے۔ یہ معلومات میں اتنی آسانی سے آپ کو نہیں دے سکتا۔ 

Related Posts