ایس بی سی اے بلڈنگ انسپکٹر کی بھتہ وصولی بے نقاب، 25 لاکھ روپے مبینہ رشوت طلب

تازہ ترین

تازہ ترین

ایس بی سی اے بلڈنگ انسپکٹر کی بھتہ وصولی بے نقاب، 25 لاکھ روپے مبینہ رشوت طلب
ایس بی سی اے بلڈنگ انسپکٹر کی بھتہ وصولی بے نقاب، 25 لاکھ روپے مبینہ رشوت طلب

کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بلڈنگ انسپکٹر کی بھتہ وصولی مبینہ طور پر بے نقاب ہوگئی، انسپکٹر نے 25 لاکھ روپے رشوت طلب کی جو اسے نہیں دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نارتھ کراچی کا بلڈنگ اسپیکٹر عامر حسین  ڈائریکٹر ایس بی سی اے کی جانب سے انہدامی کاروائی کا لیٹر لیے بغیر بھتہ وصولی کے لیے عمارت منہدم کرنے از خود پہنچ گیا۔ نارتھ کراچی سیکٹر 11 بی مین روڈ پر واقع گراونڈ پلس 3 تعمیر شدہ عمارت کو اچانک منہدم کرنے ایس بی سی اے انسپیکٹر عامر حسین اپنے عملے اور ایس بی سی اے پولیس کے ہمراہ پہنچ گیا۔ 

دوسری جانب مذکورہ عمارت کے مالک نے انسپکٹر کو قانونی دستاویزات ، نقشہ اور بلڈنگ پلان دکھایا جس پر انسپکٹر نے مبینہ طور پر 25 لاکھ روپے رشوت طلب کی ،مالک نے کہا کہ میری تعمیرات قانونی ہے اور میرا کمرشل پلاٹ ہے۔ اگر آپ اسے منہدم کرنے آئے ہیں تو انہدامی کاروائی کا لیٹر دکھائیں جو انسپکٹر عامر حسین دکھانے میں بناکام رہا اور جب اہل محلہ نے مزاحمت کی اور سختی سے پیش آئے تو موصوف چلتے بنے۔

اس حوالے سے علاقہ مکیوں نے ایم ایم نیوز ٹی وی کو بتایا کہ انسپکٹر عامر مذکورہ عمارت کے مالک کی شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے قانونی دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود ڈرا دھمکا کر اب تک 40 لاکھ روپے مبینہ طور پر وصول کر چکا ہے،  تاہم دوبارہ انسپکٹر نے ہراساں کر کے مزید 25 لاکھ روپے طلب کیے اور جب مالک نے اس سے کہا کہ اب کچھ نہیں دوں گا تو موصوف بھتہ وصولی کے لیے پہنچ گئے۔

تاہم اہل محلہ کے شور شرابے اور مزاحمت کے بعد ایس بی سی اے کی ٹیم موقع سے فرار ہو گئی۔ اس حوالے سے انسپکٹر عامر حسین سے رابطہ کرنا چاہا تاہم انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔واضح رہے کہ حکومت سندھ نے ماتحت اداروں میں جزا اور سزا کے تحت کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی نہ کر کے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کو ڈھیٹ بنا دیا ہے۔

ایس بی سی اے کے کرپٹ افسران پر نہ تو عدالتی احکامات کا اثر ہوتا ہے نہ عوامی رد عمل کا ڈراور نہ ہی خوف خدا موجود ہے۔اس صورتحال میں کراچی کے غریب اور متوسط طبقے کو دبا دیا جاتا ہے جبکہ لینڈ مافیا اور قبضہ گروپ ناجائز و غیر قانونی تعمیرات سے پورشنز بنا کر اس شہر کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کر رہے ہیں جس پر کراچی کے شہری انصاف کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی عمارت پر نوٹس، نذرانہ وصولی کے بعد تعمیرکی اجازت

Related Posts