نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت متنازعہ شہریت قانون پر شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد مسلم کش فسادات کی آگ میں جل رہا ہے جبکہ بھارت نے اقوامِ متحدہ کو درخواست پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھارتی سپریم کورٹ میں متنازعہ شہریت قانون کے خلاف درخواست دے دی جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ نے اسے اندرونی معاملہ قرار دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بیرونی عنصر بھارتی اقتدارِ اعلیٰ میں مداخلت نہیں کرسکتا۔
Breaking now:UN High Commissioner for Human Rights files an Intervention Application in the Supreme Court of India against the CAA. @MEAIndia says the CAA is an internal matter., and "no foreign party has any locus standi on issues pertaining to India’s sovereignty."
— Nidhi Razdan (@Nidhi) March 3, 2020
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والی حالیہ ہندو مسلم فسادات پر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔
ٹوئٹر پر 3 روز قبل وزیراعظم عمران خان نے بھارت میں پیش آنے والے واقعات کی تصاویر شیئرکرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی مداخلت تک اس طرح کے واقعات کے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیےتباہ کن ہوں گے۔
مزید پڑھیں: دہلی میں فسادات کے نتائج تباہ کن ہوں گے، وزیراعظم
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








