ترکی میں 6 فروری کے روز آنے والے زلزلے سے قبل جانوروں کی مختلف حرکات و سکنات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہیں جن میں زلزلے سے چند گھنٹے قبل کہیں پرندوں کے جھنڈ کو ایک ساتھ پھڑپھڑاتے ہوئے دیکھا گیا تو کہیں کتوں کے رونے کی آوازیں سنی گئیں۔
سوشل میڈیا پر جن صارفین نے یہ ویڈیوز پوسٹ کی تھیں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جانوروں کی یہ غیر معمولی حرکات زلزلے سے قبل ایک وارننگ تھی۔
????In Turkey, strange behavior was observed in birds just before the earthquake.????#Turkey #TurkeyEarthquake #Turkish pic.twitter.com/yPnQRaSCRq
— OsintTV???? (@OsintTV) February 6, 2023
تاہم اب برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے جرمنی کے میکس پلانکس انسیٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر کے پروفیسر مارٹن ویکلسکی نے اس حوالے سے تصدیق کی جس میں بتایا گیا ہے کہ جانوروں کا غیر معمولی رویہ زلزلے کی وارننگ دے سکتا ہے۔
پروفیسر مارٹن ویکلسکی نے اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے 10 سالوں کے دوران دنیا کے مختلف قدرتی آفت زدہ علاقوں میں جانوروں کے رویوں کا جائزہ لیا جس دوران ہمیں معلوم ہوا کہ جانور 4 یا اس سے زائد شدت کا زلزلہ محسوس کرسکتے ہیں جس کے بعد گروہ کی شکل میں ان کے رویوں میں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
خانہ کعبہ کرین حادثہ کیس، بن لادن کمپنی پر 20 ملین ریال جرمانہ
مزید برآں ترکی میں زلزلے سے قبل پرندوں اور کتے کے رونے کی ویڈیو پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر مارٹن نے کہا کہ فی الحال یہ تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ پرندوں کا پھڑپھڑانا یا کتے کا گھر کے آگے ایک روز قبل رونا زلزلے کی وارننگ تھی کیوں کہ زلزلے سے ایک روز قبل جنوبی ترکیہ میں برفباری ہوئی تھی تو ہوسکتا ہے کہ پرندوں کا پھڑپھڑانا سردی کے حوالے سے ہو۔
ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق ویکلسکی اور ان کی محققین کی ٹیم کی جانب سے اکٹھا کیے گئے ڈیٹا کے مطابق زلزلے سے 20 گھنٹے قبل فارم کےجانوروں کے رویے میں تبدیلی کا انکشاف ہوا ہے، ڈیٹا کے مطابق جانوروں نے زلزلے سے قبل غیر معمولی طور پر طویل سرگرمی کا وقت دکھایا، وہ 45 منٹ کے ٹائم فریم میں گزشتہ دنوں کے مقابلے 50 فیصد زیادہ متحرک تھے۔
واضح رہے کہ 6 فروری کو ترکیہ اور شام میں آنے والے 7.8 شدت کے تباہ کن زلزلے سے اموات کی مجموعی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








