اسلام آباد میں حالیہ احتجاج اور پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے سوال نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کے بعد شدت اختیار کر لی ہے،وزیراعظم نے جمعہ کو سول اور عسکری قیادت سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور مزید بدامنی روکنے کے لیے حکمت عملی مرتب کریں۔
یہ بیان اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے بعد دیا گیا، جن کے بارے میں وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ یہ مظاہرے ملک کے امن، معاشی استحکام، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے خطرہ ہیں۔
وزیراعظم کا موقف:
وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے اقدامات کو “تحریک تخریب” قرار دیتے ہوئے ان پر ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانے اور عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہروں کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 190 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوا جبکہ برآمدات، درآمدات، اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
پارلیمانی قراردادیں:
بلوچستان اسمبلی نے پی ٹی آئی پر پابندی کے حق میں قرارداد منظور کی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں بھی ایسی ہی قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں پارٹی پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
قانونی اور آئینی پہلو:
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 17(2) کے تحت حکومت کسی ایسی سیاسی جماعت پر پابندی لگا سکتی ہے جو ریاست کی خودمختاری یا سالمیت کے خلاف کام کرے۔ پابندی کے لیے ضروری ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ پارٹی قومی سلامتی یا عوامی امن و امان کے لیے خطرہ ہے۔ ماضی میں کئی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جاچکی ہے۔
1954 میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان: فوجی بغاوت کی کوشش کاالزام ۔
1971 میں عوامی لیگ: ملک توڑنے اور متوازی حکومت قائم کرنے کاالزام۔
تحریک لبیک پاکستان (2021): پُرتشدد مظاہروں اور دہشت گردی ۔
پی ٹی آئی کا معاملہ:
وزیراعظم نے پی ٹی آئی پر 2014 کے 126 دن کے طویل دھرنے اور حالیہ مظاہروں کے دوران پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹی پر امن و امان خراب کرنے کا الزام لگایا۔
چیلنجز اور اثرات:
پی ٹی آئی پر پابندی کے حق میں دلائل کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی پابندی جمہوری اصولوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور سیاسی عمل کو محدود کرنے کا خطرہ پیدا کرے گی۔
آئندہ کا لائحہ عمل:
حکومت نے اسلام آباد میں حالیہ بدامنی کے ذمہ داران کی نشاندہی کے لیے ٹاسک فورس قائم کی ہے اور آئندہ مظاہروں کو روکنے کے لیے فیڈرل فسادات کنٹرول فورس اور فرانزک لیب بنانے کا اعلان کیا ہے۔پی ٹی آئی کا مستقبل ابھی غیر یقینی ہے۔ حکومت کے اقدامات تحقیقات کے نتائج پر منحصر ہیں اور یہ کہ آیا پی ٹی آئی کی قیادت کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








