غیر ملکی میڈیا کے حوالے سے پاکستانی میڈیا پر یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر (رہبر) نے اپنے ممکنہ جانشینوں کا اعلان کردیا ہے، تاہم اس اطلاع پر کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے کئی میڈیا چینلز اور اداروں نے خبر چلائی کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے جانشین کے طور پر تین نام تجویز کیے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کے کسی بھی قانون کے تحت سپریم لیڈر کو یہ اختیار حاصل ہے؟
معروف پاکستانی فیکٹ چیک ماہر صحافی ادیب یوسفزئی نے اس حوالے سے اپنی تحقیقی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کے پاس جانشین کی نامزدگی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
ادیب یوسفزئی رپورٹ کرتے ہیں کہ ایرانی قانون و نظام کے مطابق سپریم لیڈر کے جانشین یا ان کے بعد ممکنہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے لئے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔ یہ طریقہ کار اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں واضح کیا گیا ہے۔ ایرانی آئین کے آرٹیکل 107 اور 111 کے تحت سپریم لیڈر کا انتخاب 88 رکنی “ماہرین کی اسمبلی” (مجلس خبرگان رہبری) کرتی ہے جو علماء پر مشتمل ہوتی ہے۔
یہ اسمبلی ہر آٹھ سال بعد ایرانی عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہوتی ہے۔ یہ اسمبلی نہ صرف سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے بلکہ اسے ہٹانے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔
سپریم لیڈر کے انتقال یا عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں ماہرین کی اسمبلی نئے لیڈر کا انتخاب کرتی ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
سپریم لیڈر کیلئے شرائط
آئین کے مطابق سپریم لیڈر کا امیدوار ایک سینئر عالم (آیت اللہ یا مرجع تقلید) ہونا چاہیے جو اسلامی فقہ، عدل، تقویٰ، اور سیاسی بصیرت میں مہارت رکھتا ہو۔ ایک بار منتخب ہونے کے بعد سپریم لیڈر عام طور پر تاحیات عہدے پر فائز رہتا ہے جب تک کہ وہ خود مستعفی نہ ہو یا ماہرین کی اسمبلی اسے ہٹا نہ دے۔
خامنہ ای کے بیٹے کے متعلق افواہیں
یہ بھی افواہیں پھیلائی گئی کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیٹے کو جانشین مقرر کیا ہے جبکہ ایرانی آئین سپریم لیڈر کی جانشینی کے لیے وراثتی نظام کی اجازت نہیں دیتا اور اسے ایک منتخب عہدہ قرار دیتا ہے۔
ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق گر سپریم لیڈر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہے یا انتقال کر جائیں تو ماہرین کی اسمبلی نئے لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔ اس شق میں بھی وراثتی جانشینی کا کوئی تصور موجود نہیں اور انتخاب کا اختیار صرف اسمبلی کے پاس ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








