لندن: انگلش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے دعویٰ کرتےہوئے کہا ہے کہ ای سی بی نے دورہ پاکستان کی منسوخی سے متعلق ہمیں اندھیرے میں رکھا ، دورے کی منسوخی میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔
برطانوی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ انگلش پلیئرزایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ دورہ پاکستان کی منسوخی میں کھلاڑیوں کا کوئی کردار نہیں ہے، ان سے تو یہ بھی نہیں پوچھا گیا کہ کیا آپ سفرکریں گے۔
انگلش پلیئرزایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ انہیں تو دورہ منسوخ کرنے کے بعد بتایا گیا، یونین نے ان دعوؤں کی بھی تردید کی ہے کہ فیصلے کے پیچھے برطانوی کھلاڑی تھے۔
قبل ازیں انگلش کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان کی منسوخی پر بیان جاری کیا تھا کہ ہم نے ہچکچاہٹ کے ساتھ انگلینڈ کی مرد و خواتین ٹیموں کے دورے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانوی بورڈ نے کہا تھا کہ ہمارے کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کی ذہنی اور جسمانی صحت کی نگہداشت ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم جن موجودہ حالات سے گزررہے ہیں اس میں یہ مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
انگلش کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سفر کرنے کے حوالے سے بھی کچھ تحفظات ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ اگر ہم یہ دورہ جاری رکھتے ہیں تو اس سے ہمارے کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھے گا جو پہلے کووڈ-19 کے پابندیوں کے ماحول سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
انگلش کرکٹ بورڈ نے تسلیم کیا کہ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے مایوس کن ہو گا جو ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے مستقل انتھک کوششوں میں مصروف ہے۔
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دورے منسوخ ہونے پر قومی کھلاڑیوں نے شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا تھا۔ قومی تیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم بحیثیت قوم اب ہر سطح پر اپنی ٹیم کو سپورٹ کرے۔
سابق وکٹ کیپر معین خان نے کہا تھا کہ دونوں ٹیموں کا دورہ پاکستان ملتوی کرنا افسوسناک ہے۔ راشد لطیف نے کہا کہ پاکستان کھیلوں کیلئے محفوظ ملک ہے، پی سی بی کو نیوزی لینڈ سے دوبارہ رابطہ کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے، وزیراعظم عمران خان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








