کب،کیسے، کیاہوگا:کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کی مکمل تفصیلات

تازہ ترین

تازہ ترین

New elections announced in the country in 90 days

ملک بھر میں 42 کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں، ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کی پولنگ 12 ستمبر کو ہوگی۔

ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن سے قبل دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں فوج کی تعیناتی کی درخواست مسترد کردی ہے جبکہ تمام تر تحفظات کے باوجود سیاسی جماعتیں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں۔

پاکستان میں چھاؤنی یاکنٹونمنٹ
پاکستان میں کنٹونمنٹ یعنی چھاؤنیوں کو فوج کے مستقل اڈے یا قیام گاہ کہا جاسکتا ہے ، یہ علاقے کنٹونمنٹ بورڈز کے زیر انتظام ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ ڈیپارٹمنٹ ، وزارت دفاع ، حکومت پاکستان کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور چھاؤنیوں کو کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کے تحت قائم کیا جاتا ہے ۔قیامِ امن کی وجہ سے چھاؤنیوں کا آبادیاتی کردار بدل گیا ہے۔ اب کنٹونمنٹ میں اہم شہری آبادی اور نجی کاروبار شامل ہوچکا ہے۔

کنٹونمنٹس کی تعداداوراقسام
پاکستان میں اس وقت 44کنٹونمنٹ ہیں۔ پنجاب میں 23، خیبر پختونخوا میں 9، سندھ میں 8، بلوچستان میں 4اور گلگت بلتستان میں 2 کنٹونمنٹس ہیں۔ سول آبادی کی بنیاد پر چھاؤنیوں کو تین طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے۔

کلاس ون کنٹونمنٹ وہ ہوتا ہے جس میں سول آبادی ایک لاکھ یا اس سے زیادہ ہے۔ کلاس 2 کنٹونمنٹ میں سول آبادی پچاس ہزار یا اس سے زیادہ مگر ایک لاکھ سے کم جبکہ کلاس تھری کنٹونمنٹ میں سول آبادی پچاس ہزار سے کم ہوتی ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی الیکشن میں رکاوٹ
پاکستان میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے۔ الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن کے حوالے سے وفاقی حکومت کا رویہ انتہائی نامناسب ہے، کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن کے فنڈز کے لیے پہلی بار الیکشن کمیشن کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کی راہ دکھائی گئی جس کے بعد الیکشن کمیشن کو کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کے فنڈز کیلئے صدر مملکت اور وزیراعظم آفس سے رجوع کرنا پڑا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتیں بھی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جمہوری عمل میں رخنہ اندازی کی کوشش کررہی ہیں اور مختلف حیلے بہانوں سے کام لے رہی ہیں، وفاقی حکومت بلدیاتی انتخابات سے متعلق واضح اور دو ٹوک حکمت عملی اختیار کرے،وفاقی حکومت ایسی قانون سازی کرے جس سے صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار نہ ملے۔

الیکشن کا شیڈول
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی انتخابات کیلئے 26 سے 29 جولائی تک کاغذات نامزدگی جمع کرنے جبکہ 3 اگست کا دن اسکروٹنی کیلئے مقرر کیا تھا اور 8 اگست کا دن اپیلوں کی سماعت کیلئے رکھا گیا تھا جبکہ امیدواروں کو 13 اگست تک کاغذات نامزدگی واپس لینے کی مہلت دی گئی تھی اور ملک میں 42کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کیلئے 12ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

الیکشن کی نگرانی
پنجاب میں 20 ،سندھ میں8 ،خیبرپختونخواکے 11 اور بلوچستان میں 3بورڈز کے الیکشن کنٹونمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور انکے ماتحت عملے کے ارکان کرائیں گے۔ اسٹیشن کمانڈر جو بریگیڈیئر کے عہدے کے افسر ہونگے ان انتخابات کی نگرانی کرینگے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کنٹونمنٹ بورڈز کے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن وزارت قانون و عدل کی ویٹنگ کروا کر وزارت دفاع کو بھیجے گا۔ حلف برداری والے دن ہی کنٹونمنٹ بورڈ کے کاشتکار ممبر اور اقلیتی ممبر کی نامزدگی منتخب ممبران کرینگے، 12ستمبر کو ملک بھر میں ہونے والے 42کنٹونمنٹ بورڈز میں 13کلاس ون کینٹ، 9کلاس ٹو اور 20کلاس تھری کنٹونمنٹ بورڈز شامل ہوں گے۔

نشستیں اور امیدوار
کنٹونمنٹ کے 42 وارڈزمیں 349 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا ،8 لاکھ 73 ہزار 955 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔

کنٹونمنٹ بورڈ میں بلدیاتی انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق 42کنٹونمنٹ بورڈ کی جنرل نشستوں پر 12ستمبر کو ہونیوالے انتخابات کے نتائج کا اعلان 17ستمبر کو کیا جائے گا۔

Related Posts