نجی ٹی وی سیریل کیس نمبر 9 مثبت اور منفی تأثرات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جبکہ کیس کے مرکزی کردار سحر کو انصاف مل گیا جو زیادتی کا شکار ہوئی تھی۔عدالت نے کامران کو سزا سنا دی۔
تفصیلات کے مطابق کیس نمبر 9 زیادتی کا شکار خاتون کی انصاف کیلئے طویل قانونی جدوجہد کو اجاگر کرنے والا ٹی وی سیریل ہے جسے معروف اینکر و صحافی شاہزیب خانزادہ نے تحریر کیا۔ عدالت نے مرکزی مجرم کامران کو 25سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔
ڈرامے کی آخری قسط میں عوام کے ذہن میں گردش کرنے والے سوالات کے جوابات دے دئیے گئے جن میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ کیا سحر کو انصاف ملے گا اور کیا کامران اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا؟ اور زیادتی کا شکار خواتین کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر بھی اس پر بحث کی گئی۔
کیس نمبر 9 کے اختتام کے موقعے پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ ڈرامے کی ہدایات اور پروڈکشن سے اندازہ ہوا کہ یہ ڈرامہ ناظرین کی توجہ حاصل کرے گا، تاہم لوگ اسے مقبولیت کی انتہا تک پہنچائیں گے، یہ توقع نہیں تھی۔
گفتگو کے دوران شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ کیس نمبر 9 ان لوگوں نے بھی دیکھا جو عام طور پر ڈرامہ نہیں دیکھتے تھے۔ پروڈیوسرز اسد قریشی اور عبداللہ کادوانی نے اس سیریل میں ذاتی دلچسپی لی۔ عدالت کا سیٹ، کہانی، مکالمے اور ہدایتکاری غیر معمولی رہی۔
دوسری جانب ڈرامے میں ولن کا کردار نبھانے والے فیصل قریشی نے کہا کہ کامران میرے کیرئیر کے مشکل ترین کرداروں میں سے ایک رہا ہے۔ ڈرامے کا مقصد معاشرے کو آگہی دینا تھا۔ اسکرپٹ سے لے کر ہدایتکاری تک ہر شعبے میں غیر معمولی محنت کی گئی ہے۔
یہاں یہ قابلِ ذکر ہے کہ کیس نمبر 9 کی کہانی کو موجودہ دور کے معاشرتی جرائم سے منسلک کیاجاسکتا ہے جہاں متعدد افراد زیادتی کے کیسز کا اندراج ہی نہیں کرواتے کیونکہ انہیں انصاف کی امید نہیں ہوتی جبکہ کیس نمبر 9 کی مرکزی فنکارہ نے یہ جمود توڑ کر انصاف کا حصول ممکن بناکر اپنے ناظرین کا دل جیتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








