عید الاضحیٰ کی آمد سے قبل مویشی منڈیوں میں کورونا کے خلاف اقدامات کتنے مؤثر؟

تازہ ترین

تازہ ترین

عید الاضحیٰ کی آمد سے قبل مویشی منڈیوں میں کورونا کے خلاف اقدامات کتنے مؤثر؟
عید الاضحیٰ کی آمد سے قبل مویشی منڈیوں میں کورونا کے خلاف اقدامات کتنے مؤثر؟

اسلام نے اپنے پیروکاروں کو سال میں 2 بار عید منانے کا حکم دیا جن میں سے ایک عیدالفطر تو رواں سال گزر چکی جبکہ عیدالاضحیٰ جو ہم آئندہ ماہ منائیں گے۔

عیدالاضحیٰ کو  بڑی عید بھی کہا جاتا ہے کیونکہ مسلمان اس روز بکرے اور گائے سمیت دیگر حلال جانوروں کی قربانی کرکے ان کا گوشت اقرباء، دوست احباب، رشتہ داروں اور غرباء و مساکین میں تقسیم کرتے ہیں۔

ہر سال جب عیدالاضحیٰ کا تہوار آتا ہے تو ملک کے ہر شہر میں مویشی منڈیاں لگتی ہیں جہاں لوگ بکرے، مینڈھے، گائیں، بیل اور دیگر حلال جانور خرید کر اپنے گھر لے جاتے ہیں جن کی بعد ازاں قربانی کی جاتی ہے۔

رواں برس کورونا وائرس کے باعث پہلے پہل تو سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور اب اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر ایس او پیز کی پابندی کروائی جارہی ہے جس کا مقصد عوام کو مہلک اور موذی وائرس سے بچانا ہے۔

 مویشی منڈیاں اور ایس او پیز کی پابندی 

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت عید الاضحیٰ کی آمد سے قبل مویشیوں کی خریداری کیلئے منڈیوں میں کاروبار کی اجازت تو ضرور دے رہی ہے، تاہم ہر تاجر اور عوام الناس پر ایس او پیز کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

ایس او پیز سے مراد وہ رہنما ہدایات ہیں جن کے تحت پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کو مزید تیزی سے پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے جن کے تحت حکومت نے صبح 6 سے شام 7 بجے تک مویشی منڈیاں کھولنے کی اجازت دی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام ایس او پیز پر کس حد تک عمل کریں گے؟ حکومتی اقدامات کتنے مؤثر  ثابت ہوں گے؟ بیماری کس حد تک کنٹرول ہوسکتی ہے اور کیا 13 گھنٹے مویشی منڈی کھولنے سے خریداروں کا رش کم کیا جاسکتا ہے؟

منڈیوں کی معاشی اہمیت

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک پیغام کے مطابق عیدالاضحیٰ کے مذہبی تہوار کے موقعے پر 400 ارب روپے سے زائد کا کاروبار کیا جاتا ہے جس میں سے 23 ارب قصاب لے جاتے ہیں۔

جب عوام کسی جانور کو قربانی کیلئے گھر لے کر جاتے ہیں تو اسے چارہ کھلانا گھر کے بچے بچے کی خواہش بن جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 3 ارب روپے صرف چارے کے کاروبار سے کمائے جاتے ہیں۔

اگر ہم دیگر کاروباری سرگرمیوں سے موازنہ کریں تو مویشی منڈیوں کا کاروبار اہم ترین کاروبار کے طور پر سامنے آئے گا جس میں غریب مزدوری حاصل کرتے ہیں اور چراگاہوں کے مالکان کو چارے کی قیمت ملتی ہے۔

مویشی پالنے والے گاؤں کے افراد کو ان کی مناسب اور بعض اوقات توقع سے زائد قیمت مل جاتی ہے۔ پھر جو لوگ جانوروں کو لاتے یا لے جاتے ہیں، ان کی کمائی الگ ہوتی ہے۔

مستحقین کو جو گوشت سارا سال مہنگا ملتا ہے، عید الاضحیٰ پر مفت دستیاب ہوجاتا ہے۔ کھالیں اربوں میں بکتی ہیں، چمڑے کی فیکٹریاں مزید رزق کماتی ہیں۔

بعض لوگ سارا سال صرف عیدالاضحیٰ کا انتظار کرتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ریاستیں قرضے دے کر یا ٹیکس لگانے کے بعد وہی پیسہ غریبوں میں بانٹ کر کبھی عید الاضحیٰ جیسے تہوار کی برابری نہیں کرسکتیں۔

ایس او پیز پر عمل کتنا ضروری؟

غور کیا جائے تو پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہورہی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد اتنا زیادہ ضروری نہیں رہا، تاہم یہ ایک عام تاثر ہے، حقیقت کچھ اور ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس نوجوانوں کو زیادہ متاثر نہیں کرتا جبکہ عمر رسیدہ افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان کی جان کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر آبادی نوجوان طبقے پر مشتمل ہے۔

جس گھر سے کسی والد، بڑے بھائی یا دادا دادی کی میت کورونا وائرس کے باعث اٹھتی ہے، اس کا غم دیدنی ہوتا ہے۔ اس لیے کورونا وائرس سے بچاؤ ہر پاکستانی شہری کا حق اور ایس او پیز پر عمل ہم سب کا فرض ہے۔

پابندیوں کے فوائد اور نقصانات

ایک جانب ایس او پیز پر عمل درآمد سے ہم کورونا وائرس سے بچ سکیں گے جبکہ دوسری جانب صبح 6 بجے سے شام کو 7 بجے تک لگنے والی مویشی منڈیاں خاطر خواہ کاروبار نہیں کرسکیں گی۔

سماجی فاصلہ ایس او پیز میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ منڈیوں کے محض 13 گھنٹوں کے اوقاتِ کار سے عوام کا رش بڑھ جائے گا جس سے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خدشات بھی اپنی جگہ درست ہیں۔

ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

یہ بحث چھوڑ دیجئے کہ کورونا وائرس حقیقت ہے یا فسانہ؟ کیونکہ اگر یہ فسانہ ہے تو دنیا کے 190 سے زائد ممالک میں کیسے پھیلا؟ اور اگر یہ حقیقت نہیں تو پاکستان میں اس سے 5 ہزار سے زائد اموات کیسے ہوگئیں؟

وائرس سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پر عمل ضرور کیجئے کیونکہ بعض اوقات وائرس آپ کومتاثر کرتا ہے اور آپ کو اس کا علم تک نہیں ہوتا کیونکہ آپ جوان ہوتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے جس عمر رسیدہ فرد کو لاحق ہوجائے، اس کی زندگی کو خطرہ ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد بھی ایس او پیز پر عمل نہیں کرتے۔ نہ ماسک پہنتے ہیں، نہ سماجی فاصلے کا اہتمام کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوتے ہیں۔ یہ خودغرضی کی انتہا ہے۔

ہم ایسا اِس لیے کہہ رہے ہیں کہ جو شخص کورونا وائرس ہوجانے کے باوجود بھی ایس او پیز پر عمل نہیں کرتا، اسے کورونا وائرس یا تو فسانہ لگتا ہے جو حقیقت نہیں یا پھر وہ یہ سوچتا ہے کہ مجھ سے اگر کسی اور کو لگ گیا تو مجھے کیا نقصان ہوگا؟ میرا جو نقصان ہونا تھا، ہوچکا۔یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ سوچ ہے۔ 

ہمسایہ ملک چین کی مثال اپنے سامنے رکھئے۔ لاک ڈاؤن سختی سے نافذ کیا گیا۔ عوام کورونا سے بے جگری کے ساتھ لڑے۔ اموات بھی ہوئیں لیکن متاثرین نے آگے چل کر عالمی وباء پر قابو پالیا کیونکہ وہ متحد تھے۔ 

بیماری سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پر عمل من حیث القوم ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر ہم بھی چین کی طرح کورونا وائرس کا مقابلہ کریں اور مویشی منڈیوں میں سماجی فاصلے کے اہتمام کے ساتھ خریداری کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وائرس پر قابو نہ پایا جاسکے۔ ضرورت صرف عمل کی ہے!

Related Posts