چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ سوسائٹی ایکٹ میں ترمیم اور مدارس رجسٹریشن آرڈیننس کا اجرا خوش آئند ہے، اب ڈی جی آر ای میں رجسٹرڈ مدارس کو قانونی حیثیت مل گئی ہے، رجسٹریشن آرڈیننس کو قومی اسمبلی سے جلد از جلد منظور کیا جائے۔
اپنے ایک بیان میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کا کہنا تھا کہ مدرسہ کی رجسٹریشن پر ہونے والے اختلافات کو ختم اسی طرح کیا جا سکتا تھا، نئے اور پرانے بورڈ کے مدارس جس بھی ادارے میں رجسڑیشن کروانا چاہیں انہیں آزادی ہے۔
اپنی ماں کی دوبارہ شادی کروانے والا پاکستانی نوجوان ہیرو بن گیا
ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کہا کہ نئے آرڈیننس کے اجرا سے اس مطالبہ کو پورا کر دیا گیا ہے، حکومت نے انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہوئے مدارس کے رجسٹریشن معاملات کو حل کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح ڈائریکٹر جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن سے رجسٹرڈ شدہ 18600 سے زائد مدارس کو دوبارہ رجسٹریشن کی ضرورت نہ ہے، دیگر مدارس کو جوکہ کسی بھی جگہ رجسٹرڈ نہ ہیں ان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اب مستقل حل ہو گیا ہے، اس لیے اس پر مزید سیاست نہ کی جائے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ مدارس رجسٹریشن کا مسئلہ بخوبی حل ہوگیا ہے، علما کرام نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، ضلع کرم میں زمین کا جھگڑا ہے یا فرقہ وارانہ حل ہونا چاہیئے، تمام اکابرین تلخی کی بجائے مثبت رویے اپنائیں، ہمیں افغانستان دھمکیاں نہ دیں، ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے مساجد و امام بارگاہوں کو خون میں نہلانے والے آپ کی پناہ میں کیوں ہیں؟ ہمارے دل دکھی ہیں ہمارے جوانوں کی لاشیں روز آتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








