سینئر صحافی مبشر زیدی کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں انہوں نے نوجوانوں کو سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرز پر تبدیلی کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں نوجوانوں نے پرانے سیاستدانوں کے بجائے خود قیادت سنبھالی، پرانے نظام کو رد کیا اور اسی کی بدولت وہ کامیاب ہوئے۔
مشبرزیدی کے ان بیانات کو کئی سوشل میڈیا صارفین نے تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کے بقول سینیئر صحافی گویا نوجوانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر ملک میں تبدیلی لانی ہے تو جمہوری طریقے ناکام ہوچکے ہیں اور اب خونی بغاوت ہی واحد راستہ بچا ہے۔
نیپال اور اس سے پہلے بنگلہ دیش میں انقلاب اس لئے کامیاب ہوا کیونکہ وہاں کے نوجوانوں نے بوڑھے سیاستدانوں کے پیچھے چلنے کے بجائے خود لیڈ کیا اور کامیابی پائی۔ پاکستان میں بھی یہی طریقہ کامیاب ہو گا
— Mubashir Zaidi (@xadeejourno) September 9, 2025
مبشر زیدی کے اس موقف کے خلاف سخت تنقید سامنے آئی ہے کیونکہ مذکورہ ممالک میں احتجاجات نے ان ملکوں کو شدید سیاسی، معاشی اور سماجی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ان احتجاجات میں خونریزی نے ہزاروں لوگوں کی جان لے لی۔
سری لنکا 2022:
ملک میں مہنگائی، خوراک اور ایندھن کی شدید قلت کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں احتجاج ہوا جس کے دوران حکومت کے کئی سیاسی رہنما گھروں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ پرتشدد مظاہروں میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے۔
بنگلہ دیش 2024:
وزیراعظم شیخ حسینہ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا جو شدید پرتشدد صورت اختیار کر گیا۔ جھڑپوں میں 1,400 سے 1,500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے ملک کو ایک خونی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
نیپال 2025:
سوشل میڈیا پابندی اور حکومتی ناانصافی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج میں بھی تشدد بڑھ گیا، اور پولیس کی فائرنگ میں کم از کم 25 افراد ہلاک جبکہ سابق وزیراعظم کی بیوی کو مظاہرین نے زندہ جلا دیا۔
صارفین کا ردعمل
مبشر زیدی کے بیانات پر سوشل میڈیا پر سخت ردعمل آیا ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ“کیا حکومت کو جلاؤ گھیراؤ، فساد اور تشدد کر کے معزول کرنا انقلاب کہلائے گا؟ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟۔
دوسرے نے تنقید کی کہ اصلاحات کی ضرورت ہے انقلاب کی خواہش نہیں۔ ابھی ہم نے سری لنکا بننے سے بچا ہے اور اب خونی انقلاب کا شوق لگا بیٹھے ہیں۔ انقلاب کی قیمت قومیں ادا کرتی ہیں۔
ماہرین اور سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تبدیلی کا واحد راستہ پرامن احتجاج، سیاسی مکالمہ اور قانون کی حکمرانی ہے۔ ملک کو ایسی بغاوتوں کی ضرورت نہیں جو جانی نقصان اور انتشار کا باعث بنیں۔ ترقی اور استحکام کی کنجی سیاسی شراکت داری، اصلاحات اور سماجی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔
مبشر زیدی جیسے بااثر شخصیات کی جانب سے نوجوانوں کو پرتشدد احتجاج پر ابھارنا نہ صرف ملک کے سیاسی ماحول کے لیے خطرناک ہے بلکہ عوام میں عدم استحکام اور فساد کو بھی ہوا دیتا ہے۔ ایسے بیانات سے پاکستان کو جوہری کشیدگی، معاشی بحران اور سیاسی انتشار کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے جس کے خونی نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








