پیٹرول بڑھا تو مہنگائی نے آگ پکڑ لی! عوام کیلئے چکن خریدنا بھی مشکل، جانئے نئی قیمت

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیز اضافے نے خوراک کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں پشاور میں صرف ایک دن میں مرغی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق زندہ مرغی کی قیمت میں فی کلو 35 روپے اضافہ ہوا، جو ایک دن پہلے 455 روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 490 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

مرغی کے گوشت کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے اور یہ تقریباً 780 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے شکار صارفین پر مزید بوجھ پڑا ہے۔

تاجروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اچانک اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات میں اضافہ ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی کا اثر خاص طور پر جلد خراب ہونے والی اشیاء جیسے پولٹری پر فوری طور پر پڑتا ہے۔

پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران پیٹرولیم قیمتوں میں بار بار اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جو عالمی تیل مارکیٹ کے رجحانات اور ملکی معاشی پالیسیوں سے متاثر ہے۔ ان اضافوں نے مجموعی مہنگائی میں اضافہ کیا ہے، جس کا اثر شہری اور دیہی دونوں علاقوں پر پڑ رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ مارچ 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد رہی، جو فروری میں 7 فیصد اور مارچ 2025 میں صرف 0.7 فیصد تھی۔ جبکہ 2 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے میں 1.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے۔ اسی ہفتے ایل پی جی کی قیمتوں میں 13.28 فیصد اضافہ ہوا، جس نے عوام کے لیے زندگی مزید مہنگی کر دی ہے۔

Related Posts