بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں کھانسی کے شربت سے بچوں کی ہلاکتوں کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ مرکزی حکومت کی ماہرینِ صحت پر مشتمل ٹیم نے ریاستی حکام کے تعاون سے مختلف نمونے حاصل کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مرکزی ٹیم نے حال ہی میں مدھیہ پردیش کا دورہ کیا اور کھانسی کے شربت سمیت متعدد نمونے اکٹھے کیے تاکہ بچوں کی ہلاکتوں کی وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب اطلاعات سامنے آئیں کہ بچوں کی ہلاکتیں کھانسی کے شربت کے استعمال سے منسلک ہو سکتی ہیں۔ تاہم ٹیسٹ کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی بھی نمونے میں ڈائیتھائلین گلائکول (Diethylene Glycol) یا ایتھائلین گلائکول (Ethylene Glycol) موجود نہیں تھے۔
والدین خبردار! پولیو ویکسین سے انکار پر اب سندھ حکومت شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرے گی
یہ دونوں کیمیکل گردوں کو شدید نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن ان کی عدم موجودگی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ بھارتی میڈیا کے مطابق ایک خون کے نمونے میں لیپٹوسپائروسس (Leptospirosis) کے مرض کی نشاندہی ہوئی ہے۔
تحقیقات کا دائرہ اب پانی، کیڑوں اور سانس سے متعلق نمونوں تک وسیع کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کی ٹیم تمام ممکنہ وجوہات کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو کھانسی یا نزلہ زکام کی ادویات تجویز نہ کی جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








