انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن (آئی ڈبلیو ایف) نے ایک تشویشناک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بنائی جانے والی بچوں سے متعلق جنسی زیادتی کی ویڈیوز کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے بنائی جانے والی یہ ویڈیوز نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ ان میں سے کئی حقیقی متاثرہ بچوں کی تصاویر اور مناظر کو استعمال کرتے ہوئے تیار کی جاتی ہیں، جو استحصال کی ایک نئی اور خوفناک شکل کو جنم دے رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان ویڈیوز کو حقیقت سے قریب تر بنانے کے لیے اے آئی ماڈلز کو غیر قانونی CSAM (Child Sexual Abuse Material) مواد کے ذریعے خصوصی طور پر تربیت دی جاتی ہے۔ یہ عمل، جسے “فائن ٹیوننگ” کہا جاتا ہے، نہایت حقیقت نما ویڈیوز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اس سنگین جرم کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں آئی ڈبلیو ایف نے 1,286 ایسی ویڈیوز کی نشاندہی کی جو اے آئی کے ذریعے تیار کی گئیں اور بچوں سے جنسی زیادتی پر مبنی تھیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے پہلے چھ ماہ میں رپورٹ ہونے والی صرف دو ویڈیوز کے مقابلے میں ایک چونکا دینے والا اضافہ ہے۔ ان میں سے ایک ہزار سے زائد ویڈیوز کو “کیٹیگری A” میں رکھا گیا، جو بچوں کے جنسی استحصال کی سب سے سنگین درجہ بندی ہے۔
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے برطانوی حکومت نے فروری 2025 میں نئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ ان قوانین کے تحت AI ٹولز کے ذریعے CSAM مواد تیار کرنے، رکھنے یا اس کی تقسیم کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، ایسی ہدایات یا گائیڈز رکھنا بھی غیر قانونی ہے جو AI کے ذریعے بچوں کے استحصال کے طریقے سکھاتی ہوں۔ ان جرائم کی سزا تین سے پانچ سال تک قید مقرر کی گئی ہے۔
IWF کے عبوری چیف ایگزیکٹو نے خبردار کیا ہے کہ AI سے تیار کردہ CSAM کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ آن لائن دنیا کو شدید طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف بچوں کے جنسی استحصال کو بڑھاوا دیتا ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ اور جدید غلامی جیسے سنگین جرائم کو بھی ہوا دے سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








