چین نے بدھ کے روز بیجنگ کے تیانانمن اسکوائر میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا جس میں دنیا کے کئی رہنما شریک ہوئے جن میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نمایاں تھے۔
یہ پریڈ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی شکست کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئی، جسے سرکاری ٹی وی پر براہِ راست دکھایا گیا اور ہزاروں شہریوں نے اسے براہِ راست دیکھا۔
صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں دنیا کو خبردار کیا کہ انسانیت اس وقت امن یا جنگ، مکالمہ یا تصادم، اور باہمی فائدے یا صفر نتیجے جیسے راستوں کے انتخاب کے نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی قوم ہمیشہ تاریخ کے درست رخ پر کھڑی رہے گی۔
![]()
اس موقع پر انہوں نے لیموزین میں سوار ہو کر فوجی دستوں اور جدید ہتھیاروں کا معائنہ کیا، جن میں ہائپر سونک میزائل، زیرِآب ڈرونز، سپر سونک کروز میزائل اور ایک ہتھیاربند روبوٹ وولف شامل تھے۔
فضائیہ نے ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں کے ذریعے مختلف فارمیشنز بنائیں جبکہ تقریب کے اختتام پر امن کی علامت کے طور پر 80 ہزار پرندے فضا میں چھوڑے گئے۔

تقریب میں دنیا کے 25 سے زائد رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو بھی شامل تھے۔
مغربی ممالک کے رہنماؤں نے اس تقریب سے گریز کیا تاہم پیوٹن اور کم جونگ اُن اعزازی مہمانوں کی حیثیت سے نمایاں رہے۔
پریڈ کے دوران چین، روس اور شمالی کوریا کے صدور پہلی بار عوامی سطح پر ایک ساتھ نظر آئے اور باہمی گفتگو میں مصروف دکھائی دیے۔
یہ شاندار فوجی مظاہرہ نہ صرف چین کی عسکری طاقت بلکہ اس کے سفارتی اثرورسوخ کو بھی اجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








