عدالت نے اے ٹی ایم کی خرابی کے خلاف شہری کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نجی بینک پر جرمانہ عائد کر دیا۔
کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے اے ٹی ایم کی خرابی سے متعلق درخواست پر فیصلہ دیا اور نجی بینک پر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ شہری کو ذہنی اذیت اور وقت ضائع کرنے پر جرمانے کا حکم سنایا گیا۔
درخواست گزار شہری کا کہنا تھا کہ 2019 میں رقم نکالنے کے دوران اے ٹی ایم نے رقم جاری نہیں کی تھی جبکہ مشین نے کارڈ بھی ضبط کر لیا تھا، کارڈ نہ ملنے سے شدید شرمندگی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس پر عدالت نے ریماکس دیے کہ نکلوائی گئی رقم اور سروس چارجز صارف کو واپس کر دیے گئے ہیں، اے ٹی ایم کی خرابی کے باعث کارڈ کی ضبطی سروس میں کمی کے زمرے میں آتی ہے۔
نجی بینک کی جانب سے دائرہ اختیار سے متعلق اعتراضات عدالت نے مسترد کر دیے اور رقم واپسی کے باوجود ذہنی اذیت اور وقت کے ضیاع کی تلافی ضروری ہے، نجی بینک درخواست گزار کو 15 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








