منحرف اراکین کا معاملہ عدالت کے سر کیوں؟ پارلیمنٹ خود ترمیم کرے۔سپریم کورٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

منحرف اراکین کا معاملہ عدالت کے سر کیوں؟ پارلیمنٹ خود ترمیم کرے۔سپریم کورٹ
منحرف اراکین کا معاملہ عدالت کے سر کیوں؟ پارلیمنٹ خود ترمیم کرے۔سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ منحرف اراکین کا معاملہ عدالت کے سر کیوں ڈالا جارہا ہے؟ پارلیمنٹ خود ترمیم کرے۔ 10 سے 15 ہزار لوگ جمع کرکے عدالت کے فیصلوں پر تنقید کی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی زیرِ سربراہی سپریم کورٹ کے 6 رکنی بینچ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔  ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کا کہنا تھا کہ نئے اٹارنی جنرل کی تعیناتی کا انتظار کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ان کے دلائل مکمل ہوچکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:

نواز شریف کو پاسپورٹ کا اجراء روکنے کی درخواست خارج، 5000 جرمانہ عائد

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت آگے بڑھائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر 10، 15 ہزار لوگوں کے سامنے عدالتی فیصلے پر تنقید ہوگی تو فیصلے کیوں دئیے جائیں؟ عدالتی فیصلوں کا احترام چاہئے۔ عدالت تو آئین کے تحت کام کر رہی ہے۔ قومی لیڈروں کو آئینی فیصلوں کا دفاع کرنا ہوگا۔ اپنا کام جاری رکھیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کیوں سیاسی معاملات میں پڑے؟ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ پارٹی کی امانت قرار دیا جاتا ہے۔ ضمیر پیسوں کے عوض بیچا نہیں جاسکتا۔ اراکین اگر پیسے لے کر قانون سازی کریں تو وہ ملک کے خلاف ہوگی۔ اسٹیک ہولڈرز کی نظر عدالتی فیصلے پر ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ منحرف اراکین عوام میں نہیں جاسکیں گے۔ ووٹ تو سینیٹ الیکشن کے بعد بھی فروخت ہوئے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ انحراف کی اجازت کچھ لوگ چاہتے ہیں، کچھ نہیں۔ دس ہزار بندے جمع کرکے میں نہیں مانتا کہنا آسان ہے۔ پارلیمان نے واضح طور پر تاحیات نااہلی تحریر نہیں کی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کیا عدالت کو اپنی طرف سے تاحیات نااہلی شامل کرنے کا اختیار ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح میں عدالت پہلے ہی تاحیات نااہلی قرار دے چکی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اپنا کام جاری رکھے گی۔

Related Posts