ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث متعدی بیماریاں پھیلنے کے خدشات بڑھ چکے ہیں جبکہ اکثر طوفان اور سطحِ سمندر میں اضافے سمیت دیگر حقائق دنیا کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہیں۔
حال ہی میں شائع کی گئی ایک رپورٹ ک مطابق بار بار آنے والے طوفان اور سیلاب عام طور پر موسمیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہوتے ہیں تاہم تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے ابھرتی ہوئی متعدی بیماریاں نت نئے علاقوں میں پھیل سکتی ہیں۔
طبی و سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ طوفان یا سیلاب کے نتیجے میں ایک علاقے کے حشرات اور بیماریاں پھیلانے والے جانور نت نئی جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کیلئے زندگی پہلے سے بہتر ہوجاتی ہے تاہم اس سے انسان منفی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔
حشرات اور گندگی پھیلانے والے جانور متعدی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ خشک سالی اور سیلاب کے علاوہ سمندری طوفان سے بھی ایسے حالات جنم لیتے ہیں جن میں ایسے کیڑے اور جانور تیزی سے پنپتے اور پھلتے پھولتے ہیں جن کا کام ہی بیماریاں پھیلانا ہوتا ہے۔
آب و ہوا کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ جب جنگلات کاٹے جاتے ہیں تو ایک علاقے کے ایسے لوگ جن کا انحصار ہی جنگلات پر تھا، دیگر علاقوں میں نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں اور وہ جانور اور پرندے بھی نئی آبادیوں میں داخل ہوجاتے ہیں جو پہلے ان درختوں پر رہتے تھے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جنگلات کی کٹائی، کاربن کا زیادہ اخراج اور فضائی آلودگی سمیت تمام فطرت مخالف اقدامات متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو ہوا دے رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ متعدی بیماریوں اور وباؤں سے بچنے کیلئے ماحولیاتی تبدیلی کے عوامل کا تدارک بھی کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








