وزیر اعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ نے کراچی میں ڈینگی کنٹرول اقدامات پر اجلاس کی صدارت کی۔ وزیر اعلیٰ کو موذی مرض کے خلاف حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ رواں سال ڈینگی کے باعث کم از کم 42 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ صوبے میں اب تک 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ ڈینگی کے 15 ہزار 521 کیسز سامنے آئے جن میں سے 14 ہزار 443 کیسز شہر قائد سے رپورٹ ہوئے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکام کے علم میں ہونا چاہئے کس ضلعے میں ڈینگی کے کتنے مریض رپورٹ کیے گئے اور کتنے مریضوں کا علاج ہوا۔
سیّد مراد علی شاہ نے کہا کہ صرف ہسپتالوں کو ڈیٹا حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ لیبز اور دیگر مراکزِ صحت سے بھی معلومات حاصل کی جائیں۔ عوام کے نقصان کا صحیح اندازہ کرنے کے بعد ہی بیماری پر قابو پانا ممکن ہوسکے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوام کو ڈینگی جیسے موذی مرض سے بچانا ہماری اوّلین ذمہ داری ہے۔ ایسے مقامات جہاں ڈینگی پھیلانے والے مچھر افزائش حاصل کرتے ہیں، وہاں اسپرے کیا جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل انسداد ڈینگی پروگرام موذی مرض پر قابو پانے میں ناکام ہوگیا،شہر میں ڈینگی مچھروں کے بڑھتے وارسے مزید 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
کراچی میں29 اور 30 نومبر کے درمیان ڈینگی نے 101 افراد کو متاثر کیا جس میں آغا خان اسپتال میں زیر علاج نارتھ ناظم آباد کی رہائشی 48 سالہ خاتون اور گلشن معمار کا رہائشی 3 ماہ کا بچہ انتقال کر گئے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ڈینگی کے باعث مزید 2 افراد جان سے گئے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








