رواں برس مون سون کے سیزن میں بارش کا 89 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور کراچی میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کے دوران شہریوں کو شدید پریشانی اور بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ہمسایہ ملک بھارت میں کراچی سے کہیں زیادہ بارشیں ہر سال ہوتی ہیں لیکن ایسی سیلابی صورتحال پیدا نہیں ہوتی بلکہ ہر مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کر لیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت اور کراچی کی شہری انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟ بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال، نالوں کی صفائی اور کوڑے کرکٹ کے مسائل کا حل کس کی ذمہ داری ہے، ہر سال یہ سوالات کیوں کرنے پڑتے ہیں۔
آئیے پاکستان اور بھارت کے اہم ساحلی شہروں ممبئی اور کراچی کا موازنہ کرتے ہیں اور حقیقی بنیادوں پر یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسائل کا حل اگر ہمسایہ ملک میں ممکن ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟
کراچی کے بارے میں چند حقائق
دنیا کا چھٹا بڑا اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ملک کا صنعتی و تجارتی حب کہلاتا ہے۔ یہ صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے جہاں سب سے بڑی بندرگاہ اور سب سے بڑا ہوائی اڈہ بھی موجود ہے۔ سن 1960ء تک کراچی پاکستان کا وفاقی دارالحکومت بھی رہا۔
پاکستان بھر سے روزگار کیلئے بے شمار افراد ہر سال کراچی کا رخ کرتے ہیں جس کی بناء پر ملک کے تقریباً ہر شہر کے باسی کراچی کے رہائشی بن چکے ہیں جس کی بنیاد پر اسے منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔
محلِ وقوع کے اعتبار سے کراچی بحیرۂ عرب کے عین شمال میں واقع ہے جس کا رقبل 3 ہزار 527 مربع کلومیٹر ہے۔ شہر کی شمالی اور مغربی سرحد پر پہاڑیاں موجود ہیں۔ شہر کے بیچوں بیچ 2 بڑی ندیاں ملیر ندی اور لیاری ندی موجود ہیں جن کے ساتھ ساتھ مختلف دیگر برساتی نالے بھی موجود ہیں۔
دریائے سندھ کے دہانے کی شمالی حد پر واقع کراچی ایک قدرتی بندرگاہ کے گرد پھلا پھولا اور اپنے قیام سے لے کر آج تک اس کی وسعت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ موسم کی بات کی جائے تو کراچی کا موسم عمومی طور پر معتدل سمجھا جاتا ہے جہاں گرمی اور سردی دونوں ہی کم ہوتے ہیں۔
رواں سال کے برعکس عام طور پر کراچی میں بارشیں کم ہوتی ہیں۔ اوسطاً 250 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ گرمیاں اپریل سے اگست تک جبکہ نومبر سے فروری تک سردیاں ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ سیر و سیاحت دسمبر اور جنوری میں ہوتی ہے کیونکہ اس دوران موسم اچھا رہتا ہے۔
سن 1933ء میں کراچی میں بلدیہ کا آغاز ہوا۔ شروع میں ایک میئر ایک نائب میئر اور 57 کونسلر ہوا کرتے تھے بعد ازاں کراچی ڈویژن بنایا گیا جس میں پانچ اضلاع تھے جو آہستہ آہستہ 6 اور پھر 7 کرنے کی تیاری ہے تاہم عامر لیاقت حسین نامی رکنِ قومی اسمبلی نے سندھ ہائی کورٹ میں 7ویں ضلعے کی تشکیل کو چیلنج کر رکھا ہے۔
سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ، ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن اور یونین کونسل ایڈمنسٹریشن کراچی کی شہری انتظامیہ کہے جاسکتے ہیں جبکہ سندھ حکومت بھی کراچی کا انتظام و انصرام سنبھالتی نظر آتی ہے۔ ضلع کراچی 18 ٹاؤنز میں منقسم ہے جن کی ذمہ داریوں میں پانی کی فراہمی و نکاسی، صفائی ستھرائی اور سڑکوں کی مرمت شامل ہے۔
ممبئی کا تعارف
مہاراشٹر کا ریاستی دارالحکومت ممبئی بھارت کا ایک بڑا شہر ہے جس کی آبادی 1 کروڑ 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اگر اس کے ساتھ نوی ممبئی اور تھانہ ملایا جائے تو آبادی 2 کروڑ کے قریب جا پہنچتی ہے۔ یہ بھارت کے مغربی ساحل پر واقع ہے اور کراچی کی طرح ایک ساحلی شہر ہے۔
شہرِ قائد کی طرح ممبئی میں بھی ایک قدرتی بندرگاہ موجود ہے۔ بھارت کی آدھی سے زیادہ سمندری تجارت ممبئی کے ذریعے ہوتی ہے۔ قبل ازیں اس شہر کو بمبئی کہا جاتا تھا جس کا نام 1996ء میں ممبئی رکھا گیا۔ یہ تجارتی و تفریحی مرکز کہلاتا ہے جو ملک کے جی ڈی پی کا 5 فیصد حصہ پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
پاکستان کے معاشی حب کراچی کی طرح ممبئی 25 فیصد صنعتی پیداوار لاتا ہے، 40 فیصد بحری تجارت اور 70 فیصد سرمائے کی لین دین ممبئی کے ذریعے ہوتی ہے جس کی بنیاد پر یہ شہر بھارت کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کہلاتا ہے۔ ہالی ووڈ فلم انڈسٹری بھی ممبئی میں قائم ہے۔
وسیع کاروباری مواقع کے باعث ممبئی پورے بھارت کیلئے ایک پر کشش شہر ہے اور مختلف النوع ثقافت کے حامل بھارتی شہری یہاں کا رخ کرتے ہیں اور یہاں نوکریوں کی تلاش میں بھی آتے ہیں۔ زیادہ تر بمبئی سطحِ سمندر سے بھی نیچے قائم ہے۔ سطحِ سمندر سے اوسط اونچائی 10 میٹر سے 15 میٹر تک ہے۔
ممبئی کا کل رقبہ 603 مربع کلومیٹر ہے۔ شہر کے تقریباً نصف حصے پر سنجے گاندھی نیشنل پارک بنا ہوا ہے جس میں مختلف جانور ملتے ہیں۔ آبی نظام کی بات کی جائے تو بھاٹسا ڈیم ممبئی میں ہی موجود ہے۔ یہاں 6 جھیلیں بھی ہیں جن سے پانی حاصل کیا جاتا ہے۔
تین چھوٹی ندیاں پوسر، دہستر اور اوہواڑا جسے اوشیواڑا بھی کہتے ہیں، ایک پارک سے نکلتی ہیں۔ایک میٹھی ندی تلسی نامی جھیل سے نکل کر عوام کے کام آتی ہے۔ ممبئی کی زمین مختلف النوع قسم کی ہے جس میں میدان، صحرائی و دلدلی علاقہ، ریتلی اور پتھریلی زمین بھی شامل ہے۔
حیرت انگیز طور پر ممبئی بھی کراچی کی طرح ایک زلزلہ آور خطہ کہلاتا ہے جہاں 3 فالٹ لائنز بھی موجود ہیں جو فعال رہتی ہیں۔ یہاں 6.5 شدت تک کے زلزلے آتے رہتے ہیں۔
ریاست بنانے کے مطالبے پر ممبئی کو مہاراشٹر کا دارالحکومت بنایا گیا۔ اِس مسئلے میں 105 افراد لوگ پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔ سن 70ء کی دہائی میں ممبئی میں جو انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں سن کے باعث ممبئی آبادی میں کلکتہ سے بھی آگے نکل گیا۔
سن 1992ء میں ممبئی میں ہونے والے فسادات میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ 12 مارچ کو بم دھماکے ہوئے جن میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ حالیہ برسوں میں بھی ممبئی میں دہشت گردی ہوتی رہی۔ سن 2006ء میں ٹرین دھماکوں میں 200 سے زائد افراد ہوئے۔ 2008ء میں ممبئی حملوں میں کئی لوگ مرے۔
شہرِ قائد اور ممبئی کا موازنہ
معاشی اعتبار سے کراچی اور ممبئی دونوں معاشی حب کہلاتے ہیں۔ ممبئی اور کراچی دونوں کا اوسط درجۂ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے لگ بھگ رہتا ہے۔ کراچی میں بے روزگاری کی شرح 7.2 فیصد جبکہ ممبئی میں 7.75 فیصد ہے۔
کراچی میں 2 کروڑ سے زائد انسان بستے ہیں جبکہ 2020ء کی متنازعہ مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی 1 کروڑ 60 لاکھ سے زائد ہے۔ ممبئی کی آبادی 2 کروڑ 4 لاکھ 11 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
فی کلومیٹر آبادی کی گنجانیت کے اعتبار سے موازنہ کیا جائے تو یہ حیرت انگیز حقیقت کھلتی ہے کہ کراچی میں ہر 1 مربع کلومیٹر پر 3 ہزار 700 افراد بستے ہیں جس کے مقابلے میں ممبئی میں 20 ہزار 694 افراد اتنے ہی رقبے پر آباد ہیں جس سے ممبئی کے عوام کے مسائل کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح کا جائزہ لیا جائے تو کراچی میں 5 فیصد جبکہ ممبئی میں 1 اعشاریہ 11 فیصد شرحِ اضافہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
مون سون میں کراچی کی صورتحال
رواں ہفتے کراچی میں طوفانی بارشوں کے باعث شہر کے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے، متواتر کئی گھنٹے جاری رہنے والی بارش کے باعث کراچی میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہوگیا، لوگوں کو آمدورفت میں مسائل پیش آئے اور گھروں میں پانی داخل ہونے کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے سندھ بھر میں رین ایمرجنسی کا اعلان کیا۔ 24 اگست سے شروع ہونے والی بارش محکمۂ موسمیات کے مطابق 27 اگست تک جاری رہے گی جس کے دوران اربن فلڈنگ کا الرٹ بھی جاری کیا گیا۔ کراچی میں مختلف ندیوں میں طغیانی کے باعث سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہوچکا ہے۔
بارشوں میں ممبئی کی صورتحال
رواں برس بھارتی شہر ممبئی میں مون سون کی بارشوں نے گزشتہ 15 سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔ پیر کی شب بارش کے باعث ممبئ میں بھی اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی اور سڑکیں تالاب بن گئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 4 گھنٹوں کے دوران ممبئی میں 198 ملی میٹر بارش ہوئی جو 2005ء سے اب تک ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ بارش قرار دی گئی۔
لوکل ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوئی، ایمرجنسی سروسز جاری رکھی گئیں لیکن دفاتر بند کردئیے گئے۔ ممبئی میں نظامِ زندگی مجموعی طور پر درہم برہم رہا۔ شہر میں مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا اور 10 گھنٹے تک عوام کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
قبل ازیں گزشتہ برس بھی ممبئی میں طوفانی بارشیں ہوئیں جن کے نتیجے میں زمینی و فضائی آمدورفت کا نظام تباہ اور ریل کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔ ہنگامی حالات کے پیشِ نظر حکام نے عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔
اہم نکات
غور طلب بات یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں میں بارش کی تباہ کاریاں جاری ہیں لیکن کراچی میں نالہ صفائی مہم کے نام پر بدعنوانی انتہائی قابلِ شرم حقیقت ہے۔
دوسری جانب سندھ حکومت، میئر کراچی اور بلدیاتی انتظامیہ کراچی کے انتظامی معاملات، بارش کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں اور کے الیکٹرک کے معاملات کا الزام ایک دوسرے کے سر ڈالتے دکھائی دیتے ہیں۔
کراچی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے کے باوجود مسائل کے حل کیلئے مختلف اداروں کا محتاج ہے جو کام کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ بھارت میں جمہوری نظام ، حکومتی ادارے اور عوام کے نمائندے سب عوام کی خدمت پر مامور نظر آتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت اور بلدیاتی نظام کی ناکامی کے بعد پاک فوج اور این ڈی ایم اے کو نالہ صفائی اور بارش سے پیدا ہونے والی دیگر تباہ کاریوں میں ہاتھ بٹانا پڑ رہا ہے جبکہ پاک فوج کا یہ کام نہیں ہے۔