بھارتی ریاست اتر پردیش میں مودی حکومت نے اسمارٹ سٹی کے نام پر مسلمان اور دلت شہریوں کے 2 ہزار 800 گھر مسمار کردئیے جس کی کانگریس کی ترجمان نے مذمت کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں کانگریس رہنما روشنی کشل جیسوال نے کہا کہ یوپی کے علاقے بریلی میں اسمارٹ سٹی کے نام پر 2800 دلت اور مسلمان خاندانوں کے گھر پر بلڈوزر چلا دئیے گئے۔
اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنا فلسطین کا حق ہے۔محمود عباس
ٹوئٹر پیغام میں کانگریس رہنما نے کہا کہ مارچ کے آغاز میں بھارت بھر میں ہولی کا تہوار منایا جارہا ہے۔ ہر طرف جشن کا ماحول ہے۔ ان 2800خاندانوں نے بھی ہولی کی کتنی تیاریاں کی ہوں گی لیکن بغیر کوئی نوٹس یا اطلاع دئیے 2800خاندان بے گھر کردئیے گئے۔
پیغام میں کانگریس رہنما روشنی کشل جیسوال نے کہا کہ کسی بھی خاندان کو اچانک گھر سے محروم کرکے سڑک پر لاکھڑا کرنا غلط ہے۔ 2800 خاندانوں کو دور دور تک اپنے گھروں کی جگہ صرف اینٹیں اور پتھر نظر آرہے ہیں جبکہ یہ ظلم پہلی بار نہیں ہوا۔
کانگریس رہنما روشنی کشل جیسوال نے کہا کہ اتر پردیش میں مودی حکومت کی ایسی کارروائیاں عام ہوچکی ہیں۔ اہم سیاسی رہنماؤں کی دھرتی کاشی میں بھی اچانک پولیس آجاتی ہے اور بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے۔ دو تین روز قبل کتنی ہی دکانیں مسمار کی گئیں۔
स्मार्ट सिटी के नाम पर बरेली में 2800 दलित, OBC और मुस्लिम परिवारों के मकानों को ज़मींदोज़ कर दिया गया।
उनके लिये ना तो कहीं मकान की व्यवस्था की गई है। ना ही इस बाबत कोई बात कही गई है।
CM साहब! यह बुलडोजर केवल इन 2800 मकानों पर नहीं। बल्कि देश के गौरवशाली संविधान पर चल रहा है। pic.twitter.com/rER47pq85g
— Roshni kushal jaiswal (@roshnikushal) March 6, 2023
روشنی کشل جیسوال نے کہا کہ کتنے ہی دکانداروں کا کاروبار اور عوام کے گھر بار برباد ہوجاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ سڑک پر آجاتے ہیں۔ اس سے حکومت کو کوئی سروکار نہیں۔ اسمارٹ سٹی اور بلٹ ٹرین جس کا وعدہ مودی حکومت نے کیا تھا، کیا وہ واقعی بن رہی ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








