تاریخی مسجدِ ابراہیمی یہودی عبادت میں تبدیل؟ الخلیل میں سخت کرفیو، فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

قابض اسرائیلی فورسز نے جنوبی مغربی کنارے کے شہر الخلیل (حیبرون) کے قدیم علاقے میں سخت کرفیو نافذ کر دیا ہے اور مسجدِ ابراہیمی کو مکمل طور پر مسلمانوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ یہ پابندیاں ایک یہودی مذہبی تہوار کے موقع پر لگائی گئی ہیں جس کے تحت آباد کاروں کو شہر میں آزادانہ رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔

مقامی رہائشیوں اور سرگرم کارکنوں کے مطابق جمعے کی صبح سے شہر کے پرانے محلے غیث، سلايمہ، جابر، السہلہ، تل رمیدہ اور وادی الحصین بند ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تمام داخلی راستے، چوکیاں اور گلیاں سیل کر دی ہیں جس کے باعث درجنوں فلسطینی شہری اپنے گھروں تک نہ پہنچ سکے اور انہیں رات رشتہ داروں کے گھروں پر گزارنا پڑی۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کرفیو کے دوران سینکڑوں یہودی آباد کار قدیم شہر میں داخل ہوئے گلیوں میں گھومتے رہے اور اشتعال انگیز مارچ کیے جبکہ بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی ان کی حفاظت پر مامور رہے۔

مقامی کمیٹیوں کے مطابق یہ اقدامات مسجدِ ابراہیمی کے بقیہ حصے پر مکمل قبضے کی ایک وسیع اسرائیلی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے اسے بتدریج ایک یہودی عبادت گاہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

مسجدِ ابراہیمی 1994 کے اُس سانحے کے بعد سے تقسیم ہے جس میں ایک آباد کار نے 29 فلسطینی نمازیوں کو شہید کر دیا تھا۔ اس تقسیم کے تحت 63 فیصد حصہ یہودیوں کے لیے مختص کر دیا گیا جبکہ صرف 37 فیصد مسلمانوں کو رہ گیا۔ اس کے علاوہ اسرائیل سال میں دس اسلامی ایام پر مسجد کو مسلمانوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیتا ہے جبکہ حالیہ برسوں میں فلسطینیوں کو اپنے مذہبی مواقع پر بھی مکمل رسائی نہیں دی گئی۔

مقامی فلسطینی اداروں کا کہنا ہے کہ مسجد کے مرکزی بازار کی طرف جانے والا دروازہ روزانہ بند رکھا جاتا ہے جبکہ مشرقی دروازے کی کھڑکیوں کو بھی 2025 کے آغاز سے رکاوٹوں اور کپڑوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ اس قدیم شہر میں 400 کے قریب آباد کار رہتے ہیں جن کی حفاظت کے لیے تقریباً 1500 اسرائیلی فوجی تعینات ہیں جس سے فلسطینی شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

Related Posts