سعودی حکومت کی جانب سے نو مسلم شخصیات کو شاہی مہمان کے طور پر عمرہ کی سعادت دلانے کا سلسلہ ایک بار پھر جاری ہے۔
“عمرۃ العالم” پروگرام کے تحت رواں سال دنیا کے 30 ممالک سے حالیہ عرصے میں اسلام قبول کرنے والی نمایاں شخصیات کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ان مہمانوں میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں، جو پہلی بار حرمین شریفین کی حاضری کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔
جاپان، پولینڈ، فرانس، ڈنمارک، روس، کروشیا، اسپین، کینیڈا، ناروے، پرتگال، سوئٹزرلینڈ اور بیلجیم سمیت مختلف یورپی و ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے نو مسلم وفود مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں۔ خانۂ کعبہ کو پہلی بار دیکھنے کے مناظر نہایت جذباتی رہے، جہاں کئی افراد آبدیدہ ہو گئے اور اس لمحے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا روحانی تجربہ قرار دیا۔
یہ پروگرام سعودی عرب کی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ہے اور مہمانوں کو عموماً “ضیوف خادم الحرمین الشریفین” (شاہی مہمان) کا اعزاز دیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام سفری، رہائشی اور انتظامی اخراجات برداشت کیے جاتے ہیں، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اعلیٰ معیار کی رہائش، مترجمین، دینی رہنمائی اور خصوصی پروٹوکول فراہم کیا جاتا ہے۔
سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کے ساتھ وفود کو مقدس اور تاریخی مقامات کی زیارت بھی کرائی جاتی ہے تاکہ وہ اسلامی تاریخ اور روحانی ورثے سے براہ راست آگاہ ہو سکیں۔ پروگرام کے دوران عمرہ کے مناسک کی عملی تربیت بھی دی جاتی ہے، جس سے نو مسلم مہمان عبادات کو درست طریقے سے ادا کر سکیں۔
رواں سال کے وفد میں شامل افراد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہیں۔ کچھ تعلیم کے میدان سے تعلق رکھتے ہیں، بعض سماجی کارکن ہیں جبکہ چند میڈیا اور عوامی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ان سب کا مشترکہ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اسی سال اسلام قبول کیا اور اب پہلی مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری نصیب ہوئی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق “عمرۃ العالم” پروگرام کا مقصد صرف عمرہ کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ نو مسلم افراد کو اسلامی تعلیمات، عبادات اور مسلم معاشرت سے روشناس کرانا بھی ہے۔ اس موقع پر انہیں قرآنِ کریم کے نسخے، دینی کتب اور یادگاری اسناد بھی پیش کی جاتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام سعودی عرب کی مذہبی سفارت کاری کا اہم پہلو بھی ہے، جس کے ذریعے دنیا بھر کے نو مسلموں کی حوصلہ افزائی اور عملی اخوت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی درجنوں ممالک سے سینکڑوں نو مسلم اس پروگرام کے تحت مدعو کیے جا چکے ہیں، بعض برسوں میں ان کی تعداد 50 سے 100 تک رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








