کورونا نے 3 ماہ میں 15 لاکھ پاکستانیوں کو بے روزگار کردیا۔ایشیائی ترقیاتی بینک

تازہ ترین

تازہ ترین

ایشیائی ترقیاتی بینک
(فوٹو: آن لائن)

فلپائن: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے لگائے گئے لاک ڈاؤن کے دوران 3 ماہ کے اندر 15 لاکھ پاکستانی شہری بے روزگار ہو گئے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے  دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن اور بے روزگاری کے حوالے سے اہم اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں  بتایا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں لاکھوں بے روزگار افراد کا اضافہ ہوا۔

مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  کورونا اگلے 6 ماہ میں پاکستان کے 22 لاکھ سے زائد نوجوانوں کو بے روزگار کرسکتا ہے جبکہ براعظم ایشیاء کے 13 ممالک کورونا وائرس سے براہِ راست متاثر ہوئے۔ صرف ایشیائی ممالک میں 3 ماہ میں 1 کروڑ نوجوانوں کی بے روزگاری کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 6 ماہ میں بے روزگار افراد کی تعداد 1 کروڑ 50 لاکھ تک جاسکتی ہے جبکہ کورونا وائرس نے عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ممالک کو بھی نہیں بخشا۔ وائرس سے جاپان، انڈونیشیاء، ملائشیاء اور آسٹریلیا میں بھی بے روزگاری پھیل گئی۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل  آن لائن سروے کی ویب سائٹ گیلپ پاکستان نے انکشاف کیا کہ ملک کے 58 فیصد شہری کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن  کے باعث بے روزگار ہوسکتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر3 روز قبل  اپنے پیغام میں  گیلپ پاکستان نے کہا کہ ہر 5 میں سے 3 یعنی 58 فیصد پاکستانی شہریوں کو کورونا وائرس کے باعث بے روزگار ہونے کا خوف لاحق ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا کے باعث 58 فیصد پاکستانیوں کی بے روزگاری کا خدشہ

Related Posts