محکمہ لینڈ مینجمنٹ کے افسران کی کرپشن، قبرستان کا پلاٹ کروڑوں کے عوض فروخت

تازہ ترین

تازہ ترین

محکمہ لینڈ مینجمنٹ کے افسران کی کرپشن، قبرستان کا پلاٹ کروڑوں کے عوض فروخت
محکمہ لینڈ مینجمنٹ کے افسران کی کرپشن، قبرستان کا پلاٹ کروڑوں کے عوض فروخت

کراچی: ادار ہ تر قیات کراچی (کے ڈی اے) محکمہ لینڈ مینجمنٹ کے افسران کی دیدہ دلیری کرپشن کی بدترین مثال بن گئی، افسران نے گلشن اقبال میں قبرستان کی مبینہ زمین جس کے پلاٹ نمبر D.157 بلاک 7 کو مبینہ طور پر فروخت کر کے کروڑوں کا چونا لگا دیا۔

سندھ محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ایسٹ نے انکوائری مکمل کر کے کے ڈی اے افسران کے خلاف گلشن اقبال میں مقدمہ درج کرادیا۔ تاہم مقدمے میں ایسے ملزمان کو نامزد کیا ہے جو اس وقت محکمہ لینڈ مینجمنٹ میں کسی عہدے پر نہیں تھے یا اس الاٹمنٹ اور لیز سے تعلق نہیں تھا۔

جن افسران کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے ان میں ایک شخص نامزد ملزم زاہد صدیقی کا(کے ڈی اے) سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم اسے بھی اینٹی کرپشن نے کے ڈی اے کلرک ظاہر کر دیا ہے، اور اسے گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

اس حوالے سے نامزد ملزمان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر انکوائری کی بنیاد پر درج ہوتی ہے تاہم اینٹی کرپشن نے نہ کوئی انکوائری کی ہے نہ ہی کبھی ہم سے بلوا کر تفتیش کی ہے،ایسے میں مقدمہ غیر قانونی ہو جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک نامزد ملزم ڈائریکٹر لینڈ سید ارشد عباس جنہوں نے حقائق کا علم ہونے پر مذکورہ پلاٹ کی لیز منسوخ کر دی تھی ان پر بھی لیز کرنے کا مقدمہ درج ہوا ہے،تمام 6 نامزد ملزمان میں موجودہ ڈائریکٹر فنانس عطا عباس جو ان دنوں محکمہ ریکوری میں تھے،سہیل خان ڈائریکٹر آئی ٹی،سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ ندیم احمد صدیقی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ معراج، کلرک راضا،اور ارشد عباس شامل ہیں،نجی شخص زاہد صدیقی گرفتار ہے۔جبکہ کے ڈی اے کے 5 افسران نے اپنی ضمانتیں کر والی ہیں۔

درحقیقت اس کی انکوائری کی جاتی اور انویسٹی گیشن افسر اینٹی کرپشن اعجاز قائم خانی اگر حقائق تلاش کرتے تو یقیناََ ان کے علم میں یہ بات آجاتی کہ جس وقت الاٹمنٹ اور لیز کی گئی اس وقت ادارہ ترقیات کراچی محض کے ایم سی کا ایک عنگ تھا اور اس دور میں ڈائریکٹر لینڈمینجمنٹ نجم الزماں تھے جن کا تعلق کے ایم سی سے ہے اور کے ڈی اے پر بھی ان دنوں ان کی حکمرانی تھی۔

اینٹی کرپشن کے انویسٹی گیشن افسر اعجاز قائم خانی کی اس کیس میں بد حواسیاں واضح ہیں، کیوں انہوں نے ایک شخص زاہد صدیقی، ایک لیز منسوخ کرنے والے ڈائریکٹر سید ارشد عباس، ایک اور ڈائریکٹر عطا عباس جو اس وقت محکمہ لینڈ میں نہیں تھے،اور دیگر کو بغیر حقائق جانے نامزد کیا ہے۔

دوسری جانب جس کے ایم سی افسر نجم الزماں کے دور میں یہ لیز ہوئی اور ریکوری ڈائریکٹر اس وقت قوی خان تھے جو انتقال کر چکے ہیں، تاہم انتہائی مضحکہ خیز انکوئری ہو رہی ہے اور مقدمہ بھی درج کرا دیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسر نے ذاتی فائدے کے لیے یہ کھیل کھیلا ہے۔

Related Posts