کراچی: چیف سیکرٹری سندھ نے سروسز اسپتال کراچی میں ہو نے والی 10 کروڑ روپے کی مالی بد عنوانیوں کی رپورٹ سیکرٹری صحت سے طلب کر لی۔
حکومت سندھ کی نان گز یٹیڈ ملازمین کی تنظیم سندھ گو رنمنٹ نان گز یٹیڈ ایمپلا ئز یونین (سینوا) کے کارکنان نے اسپتال کے ایم ایس کی لوٹ مار کی داستان سنا کر چیف سیکرٹری کو حیران کردیا۔
ذرائع کے مطابق خلا ف قا نون تعینات ایم ایس نے صو با ئی وزیر کی سیا سی پشت پنا ہی پر تین من پسند کمپنیوں کو ٹینڈر ز دینے کی یقین دہا نی کروا کر کروڑوں کا کمیشن ایڈ وانس میں حا صل کرلیا ہے۔
چیف سیکر ٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے ان شکا یا ت پر سخت بر ہمی کا اظہار کیا ہے، گریڈ 19کے جو نیئر ترین افسر ڈاکٹر فر حت عبا س کے با رے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ حکومت سندھ کے مختلف محکموں کے ملازمین ڈاکٹری نسخوں کے مطا بق جان بچانے والی لازمی ادویہ یو میہ لوکل پر چیز کے ذریعے تقریباً پچا س ہزار روپے کی لیتے ہیں۔
اس کے برعکس ایم ایس ڈاکٹر فرحت عبا س ان کے بجٹ میں فرضی نسخے شامل کر کے یہ رقم پانچ لاکھ روپے میں تبدیل کر دیتے ہیں اس صورتحال کے باعث ان کی یو نین سینوا نے اس کھلی بد عنوانی کے با عث فی الحال دوا لینے کے عمل کو روکا ہوا ہے،لیکن سرکاری دائمی مریض اپنی صحت اور جان بچانے کیلئے حکومت سندھ کی مہیا کردہ سہولت کے با وجود مذکورہ دوائیں ذاتی طور پر خرید نے پر مجبور ہیں۔
ذرائع کہ مطا بق چیف سیکرٹری نے متا ثرہ ملازمین کی شکا یا ت کو ہمدردی سے سننے کے بعد سیکرٹری صحت کی رپورٹ کی روشنی میں ان کی شکایات کے ازالے کی یقین دہا نی کرائی ہے۔
علاوہ ازیں سروسز اسپتال کے ذرائع کے مطابق اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فرحت عبا س نے سیپرا قوانین کی دھجیاں اڑا تے ہو ئے ٹینڈر میں شامل دیگر کمپنیوں کو ڈس کوا لیفا ئی کرتے ہوئے من پسند کمپنیوں کو ٹینڈر کی یقین دہا نی کروا کر مذکورہ کمپنیوں سے کروڑوں روپے کا کمیشن بھی ایڈوانس وصول کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق من پسند کمپنیوں کو نوازنے کیلئے ٹینڈر کو خصوصی طور پر ڈیزائن کرنے کیلئے تقریبادس کروڑ روپے کے بجٹ میں سے تقریبا ًتین کروڑ روپے کمیشن کی رقم طے پا ئی ہے۔وا ضح رہے کہ ایم ایس کی مذکورہ تینوں من پسند کمپنیا ں محکمہ صحت میں کرپشن کی شہرت کی پہچان رکھتی ہیں۔