اسلام آباد:آئیسکو کی بدترین کرپشن میں چیک اینڈ بیلنس رکھنے والے شعبے اور ادارے بھی حصہ دار نکلے،اسپیشل آڈٹ ریکوری 3کروڑ40لاکھ وصولی کے بغیر این او سی اور پنشن و مرعات حاصل کرنے والے 44 افسران کے نام سامنے آگئے۔
آئیسکو شعبہ آڈٹ محض کرپٹ افسران کا تحفظ کرنے کی حد تک محدود رہ گیا ہے، پچھلے دس سالوں سے کارکردگی صفر جبکہ بجٹ اور مراعات میں ہر سال دگنا اضافہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہیں۔
چیک اینڈ بیلنس رکھنے والے شعبہ سیکورٹی اینڈ ویجیلنس اور شعبہ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اپنے اپنے دائرہ اختیار کو کرپشن روکنے کے بجائے اسے تحفظ دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس کا اندازہ ان کی پچھلے دس سالہ کارکردگی سے لگایا جا سکتا ہے،ماسوائے صارفین یا پانچ اسکیل کے ملازم کے خلاف کارروائی کے علاوہ کسی ایک میگا کرپشن سکینڈل کی کارکردگی ان کے ریکارڈ پر نہیں۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








