کراچی: بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ کے زیر اثر مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کے بھاؤ میں تیزی کا تسلسل جاری ہے۔ اسپاٹ ریٹ میں فی من 900 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ روئی کے بھاؤ میں ریکارڈ اضافہ کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز اور جنرز محتاط۔ کاٹن یارن کے بھاؤ میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹوں میں مالی بحران۔ APTMA اور ٹیکسٹائل ویلیو ایڈڈ سیکٹر کے درمیان کاٹن یارن پر ڈیوٹی عائد کرنے کے متعلق سرد جنگ جاری ہے۔
مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران اور گزشتہ سے پیوستہ ہفتہ کی تیزی کا تسلسل جاری رہا۔ روئی کا بھاؤ نیویارک کاٹن مارکیٹ میں غیر معمولی اضافے کے زیر اثر رہا۔ پورے ہفتہ کے دوران مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی کا عنصر غالب رہا اسی طرح اعلیٰ کوالٹی کی روئی کا بھاؤ سیزن میں تھوڑے عرصے کے دوران دوسری بار 14500 روپے کی 11 سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، اسی طرح پھٹی کے بھاؤ میں بھی اضافہ کا رجحان رہا روئی کا بھاؤ انچا ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز نے احتیاط اختیار کرلی تھی جو ملز ہفتہ کے آغاز کے تین روز اونچی جانے والی مارکیٹ کا ساتھ دیتے رہے، جمعرات سے وہ محتاط خریداری کرنے لگے جس کے باعث کچھ جنرز نے مارکیٹ کا رخ بھانپ کر روئی فروخت کرنی شروع کردی جس کے باعث روئی مزید اونچے داموں جانے سے رک سی گئی۔ دوسری جانب روئی کا بھاؤ بڑھانے کا محور نیویارک کاٹن مارکیٹ بھی تهما ہوا دکھائی دینے لگا کیوں کہ نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھاؤ خصوصی طور پر چین کی جانب سے خریداری بڑھنے کے سبب بڑھتا جارہا تھا، وہ بھی رکتی ہوئی دکھائی دینے لگی، نیویارک کاٹن مارکیٹ میں روئی کا بھاؤ گزشتہ 11 سالوں 12-2011 کی سیزن کے بعد فی پاؤنڈ 1 امریکی ڈالر سے تجاوز کر کے ایک ڈالر 7 امریکن سینٹ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا ، بعد ازاں پرافٹ ٹیکنگ کی وجہ سے ایک ڈالر 4 سینٹ پر بند ہوا۔ 12-2011 کی سیزن میں بھی روئی کا سب سے بڑا خریدار چین تھا اس وقت نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھاؤ شاید نیویارک کاٹن کی تاریخ کا ریکارڈ بلند ترین بھاؤ تھا۔
اس وقت ہماری مقامی مارکیٹ میں روئی کا بھاؤ تقریبا 14500 روپے کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا یہ دوسری بار ہے کہ روئی کا بھاؤ فی من 14500 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچا ہوا ہے۔ اس وقت کئی ٹیکسٹائل ملز اور جنرز شدید بحرانی کیفیت میں آگئے تھے اور کئی ملز اور جننگ فیکٹریاں دیوالیہ ہوگئی تھی اور کئی نصیب دار جنرز اور ٹیکسٹائل ملز کو غیر معمولی فائدہ ہوا تھا۔
اس وقت بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کا بھاؤ مقامی کاٹن کے بھاؤ سے زیادہ ہے، علاوہ ازیں روپے کے نسبت ڈالر کا بھاؤ بے تحاشہ بڑھ کر 172 تا 173 روپے پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث روئی کی درآمد مہنگی ہوگئی ہے، دوسری جانب کنٹینرز اور شیپمنٹ پہنچ سے باہر ہوگئی ہے اور ڈلیوری میں بھی غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالی بحران کا شکار ہوگئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت روئی کا بھاؤ زیادہ ہوگیا ہے جبکہ ان بھاؤ پر یارن فروخت کرنا مشکل ہورہا ہے۔
صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی من 12800 تا 14300 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4800 تا 6100 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1450 تا 1800 روپے صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 13800 تا 14500 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5500 تا 6400 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1500 تا 1850 روپے صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 13800 تا 14200 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5800 تا 6800 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1600 تا 1900 روپے رہا۔
کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 900 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 14100 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔
کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی کا عنصر غالب رہا نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھاؤ بڑھ کر 11 سالوں کی اونچی سطح پر فی پاؤنڈ 1 ڈالر 7 امریکن سینٹ ہوگیا جو 12-2011 کی سیزن میں چین کے روئی کی بے تحاشہ خریداری کے باعث شاید نیویارک کی تاریخ کی ریکارڈ بلند ترین سطح فی پاؤنڈ 2 ڈالر 26 امریکن سینٹ پر پہنچ گیا تھا اس کے بعد ابھی رواں سیزن میں فی پاؤنڈ 1 ڈالر 7 امریکن سینٹ کی اونچی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ کے مطابق برآمد 5 لاکھ 71 ہزار 400 گانٹھیں گزشتہ ہفتہ کے نسبت 65 فیصد زیادہ ہوئی، اس مرتبہ بھی چین نے 4 لاکھ 18 ہزار 600 گانٹھیں خریدی ہیں ، موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور چین کے مابین تصفیہ ہوگیا ہے، چین امریکا سے مزید روئی درآمد کرتا رہے گا۔ برازیل، وسطی ایشیا، ارجنٹینا اور چین وغیرہ میں روئی کے بھاؤ میں مجموعی طور پر تیزی برقرار رہی۔ بھارت میں كپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں خصوصی طور پر گجرات میں غیرمعمولی بارشوں کی وجہ سے کپاس کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ بتایا جاتا ہے جس کے باعث بھارت میں بھی روئی کے بھاؤ میں تیزی کا رجحان ہے۔ WASDE نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس سال دنیا میں روئی کی پیداوار کی نسبت كهپت زیادہ ہوگی جس کے باعث روئی کے بھاؤ میں مجموعی طور پر تیزی کا عنصر غالب رہے گا۔
دریں اثناء APTMA اور ٹیکسٹائل مصنوعات سیکٹر کے درمیان کاٹن یارن کی برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کے متعلق سرد جنگ جاری ہے۔ ٹیکسٹائل مصنوعات سیکٹر والے اپنی دلیل میں کہہ رہے ہیں کہ یارن برآمد ہو جانے کی وجہ سے انہیں مناسب بھاؤ پر کاٹن یارن نہیں مل رہی جس کے باعث کاٹن یارن کی برآمد پر ڈیوٹی عائد کی جائے جبکہ APTMA اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ APTMA کا مؤقف ہے کہ مقامی مارکیٹ میں وافر مقدار میں کاٹن یارن دستیاب ہے۔
پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر جی ایم ای اے) نے دنیا بھر سے روئی اور کاٹن یارن کی ڈیوٹی فری درآمد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جب تک کہ ملک خام مال میں خود کفیل نہ ہو جائے۔
پی آر جی ایم ای اے کے نو منتخب ریجنل چیئرمین شیخ لقمان امین نے کہا کہ پاکستان مصنوعات کی تنوع کی کمی اور خام مال تک محدود رسائی کی وجہ سے اپنی پوری برآمدی صلاحیت حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاٹن یارن کی درآمد پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیوں کو طویل مدتی بنیادوں پر ختم کیا جانا چاہیے تاکہ قیمتوں کی مسابقت اور مصنوعات کی تنوع کو حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ کی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) نے رواں سال اپریل میں کاٹن یارن کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی تین ماہ کی مدت کے لیے واپس لینے کا اعلان کیا ہے، تاکہ ویلیو ایڈڈ ملبوسات کی صنعت کو ہموار سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا کاٹن یارن کی درآمد پر دسمبر 2020 میں 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی واپس لینے کا اقدام ، اور پھر اپریل 2021 میں کسٹم ڈیوٹی کو ہٹانے سے ملبوسات کے شعبے کو بہت مدد ملی اور ملک کے معاشی استحکام میں مدد ملی ، جس کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ کپاس کی قلت کے درمیان جون 2021 کے بعد ریلیف واپس لے لیا گیا ہے ، توقع ہے کہ برآمدی نمو شدید متاثر ہوگی جس سے کسی بھی قیمت پر گریز کیا جانا چاہیے۔
پی آر جی ایم ای اے کے چیف کوآرڈینیٹر اعجاز کھوکھر نے وزیر اعظم کے مشیر تجارت اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد سے اپیل کی کہ وہ پی آر جی ایم ای اے کا یہ مطالبہ ایک بار پھر ای سی سی کے سامنے رکھیں تاکہ دنیا بھر سے کپاس اور سوتی یارن کی ٹیکس اور ڈیوٹی فری درآمد جاری رہے۔ اب بھی برقرار ہے اور برآمد کنندگان فی الحال خام مال کی کمی کی وجہ سے غیر ملکی آرڈر بک نہیں کر رہے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب برآمد کنندگان کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے جب کہ سمندری فریٹ چارجز میں 700 فیصد اضافے اور روپے ڈالر کے تبادلے کی شرح میں غیر یقینی صورتحال ، ڈیوٹی فری خام مال ملبوسات کے شعبے کو کچھ کشن فراہم کرے گا صنعت کے خام مال کی کمی ، انہوں نے مشاہدہ کیا۔
پی آر جی ایم ای اے اب بھی سوچتا ہے کہ خام مال کی قلت کا اصل حل زمینی راستے سے درآمد کو کھولنے میں ہے ، کیونکہ سمندر کے راستے کاٹن یارن کی درآمد کبھی بھی زمینی راستے سے انتہائی کم لاگت والے سوت کا متبادل نہیں بن سکتی ، خاص طور پر مال کی بھاری اضافے کے تناظر میں انہوں نے مزید کہا کہ شپنگ لائنوں کی شرحوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔
پی آر جی ایم ای اے کے ریجنل چیئرمین نے حکومت سے کہا کہ سوت کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں سابقہ نرمی صرف تین ماہ تک محدود نہیں ہونی چاہیے تھی ، بلکہ اسے اس وقت تک جاری رکھنا چاہیے تھا جب تک کہ ملک ٹیکسٹائل ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کی 10 ملین کاٹن بیلز کی مانگ کو پورا کرنے کے قابل نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں : دورہ سری لنکا کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا گیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








