اسلام آباد:جوڑے پر تشدد اور جنسی زیادتی کے مقدمے کے مرکزی ملزم عثمان مرزا اور دیگر چار افراد کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنادی۔
عمر قید کی سزا پانے والے دیگر ملزمان میں محب بنگش، قیوم بٹ، حافظ عطاء الرحمان اور فرحان شاہین شامل ہیں تاہم دو شریک ملزمان عمر بلال اور ریحان کو بری کر دیا گیا۔
ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے اسلام آباد کے ای 11 سیکٹر میں لڑکے اور لڑکی پر تشدد کیس کا فیصلہ سنایا۔
ملزم فرحان شاہین کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے جج کو بتایا کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے بے قصور ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے کیس کی سماعت میں شریک ملزم بلال مروت کے وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ نہ تو کسی ڈیل کا حصہ ہیں اور نہ ہی لڑکے اور لڑکی کے بیان سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ہمارے خلاف میرٹ پر کوئی کیس نہیں تھا لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ میرٹ پر مراعات دی جائیں اور کیس سے بری کیا جائے۔
دوسری جانب عثمان مرزا نے جیل اہلکار کے ناروا سلوک کے خلاف تحریری درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں عثمان مرزا نے کہا تھا کہ کانسٹیبل صفدر نے ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔ جیل میں تعینات کانسٹیبل بھی عدالت میں پیش ہوئے اور الزامات کی تردید کی۔