اسلام آباد: عدالت نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت نظرثانی درخواست خارج کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: عدالت نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت نظرثانی درخواست خارج کردی
اسلام آباد: عدالت نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت نظرثانی درخواست خارج کردی

عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے میں نظر ثانی درخواست میں وزیر اعظم کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے درخواست خارج کردی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف توہین عدالت نظر ثانی درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔ چیف جسٹس آف ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر اعظم عمران خان پر توہینِ عدالت کا مقدمہ ہے۔ انہوں نے تقریر کے دوران عدلیہ کے خلاف ریمارکس دیتے ہوئے اسے متنازعہ بنایا۔ تقریر کا متن دیکھنے سے توہینِ عدالت کا جرم ثابت ہوتا ہے۔

عدالت سے استدعا میں درخواست گزار نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کا مذاق اڑایا گیا، وزیر اعظم عمران خان توہینِ عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ انہیں سزا سنائے۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ بولنے والوں کو بولنے دیجئے، یہ معاملہ عدلیہ اور ملزم کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ آپ منتخب نمائندوں کو کیوں گھسیٹ رہے ہیں؟ عدالت عوام کے احترام میں منتخب نمائندوں کے خلاف احتیاط برتتی ہے۔

بعدازاں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دائر کی گئی توہین عدالت مقدمے کی نظر ثانی درخواست کو خارج کردیا۔ 

یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 26 نومبر کو دورکنی ججز بنچ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار سمیع اللہ خان ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے کیونکہ ان کی تقریر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم  کے خلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد

Related Posts