گجرات: بھارت میں بوسیدہ پل گرنے سے ہلاکتوں کے معاملے پر اعلیٰ عدالت نے سرکاری ادارے پر جرمانہ عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گجرات ہائیکورٹ نے موربی پل حادثے میں شہری انتظامیہ اور ریاستی حکومت پر سوالات کی بھرمار کردی۔ بدھ کے روز ایک بار پھر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر چند گھنٹوں میں حلف نامہ داخل نہ کرایا تو 1لاکھ کا جرمانہ کریں گے۔
قدیم بھارتی پل گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 141ہوگئی، درجنوں لاپتہ
بھارتی حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے بدھ کے روز عدالت نے موربی میونسپل کارپوریشن (ایم ایم سی) سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس گجرات ہائیکورٹ اروند کمار اور جسٹس آشوتوش شاستری پر مشتمل 2 رکنی ہائیکورٹ ججز بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ گزشتہ روز حکومت اسمارٹ طریقے سے کام کر رہی تھی، تاہم اب معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا۔ آج شام تک یا تو جواب داخل کرائیں یا 1 لاکھ جرمانہ کردیں گے۔ موربی انتظامیہ نے حلف نامہ جمع کرادیا۔
سرکاری وکیل دیوانگ ویاس نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اس قسم کی غلطی نہیں کریں گے۔ حلف نامے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ موربی میں حادثے کا شکار پل 4 ماہ سے خستہ حالی کا شکار تھا جس پر عوام کی آمدورفت بند ہی نہ کی گئی۔
مرمت مکمل ہونے کے بعد اجنتا کمپنی نے فٹنس سرٹیفکیٹ لیے بغیر ہی خستہ پل کو عوام کیلئے کھول دیا۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ حادثے سے قبل یہی کمپنی بغیر کسی معاوضے کے پل کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ 2018 میں اسی کمپنی کو دیکھ بھال دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت میں قدیم پل گرجانے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 141 ہوگئی جبکہ دریا کی بے رحم موجوں کی نذر ہونے والے درجنوں شہری لاپتہ تھے جن کی تلاش شروع کردی گئی۔
گزشتہ ماہ 30 اکتوبر کے روز بھارتی شہر گجرات کے علاقے موربی میں دریا پر بنا قدیم پل اتوار کو تفریح کیلئے آئے ہوئے شہریوں کے وزن سے گرا۔ حادثے کے وقت پل پر 500 سے زائد افراد موجود تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








