وطنِ عزیز پاکستان میں کورونا وائرس ایک عالمی وباء کے طور پر خوف و ہراس پھیلانے میں مصروف تھا کہ رنج و غم میں مبتلا عوام کے چہروں پر اس وقت خوشی سے بھرپور مسکراہٹ پھیل گئی جب پاکستان نے کورونا ویکسین درآمد کرنے کا اعلان کیا۔
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر کے بیان کے مطابق آج پاکستان کے تمام صوبے اور نجی ادارے پاکستان کی منظور شدہ کورونا ویکسین درآمد کرنے کیلئے آزاد ہیں۔ آج پاکستان ائیر فورس کا ایک جہاز بھی چین روانہ کیا گیا جو کل ویکسین لے کر اسلام آباد واپس پہنچ جائے گا۔
آئیے کورونا ویکسین پر حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وائرس کے باعث پاکستان میں تازہ ترین صورتحال کیا ہے اور کورونا ویکسین کی آمد کے بعد اس صورتحال میں کس حد تک بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال
اب تک پاکستان کے 5 لاکھ 44 ہزار 813 افراد کورونا کا شکار ہوئے جن میں سے 4 لاکھ 99 ہزار 974 صحتیاب ہوچکے ہیں۔ وائرس کے باعث 1 روز میں 34 افراد انتقال کر گئے جس سے اموات کی تعداد 11 ہزار 657 ہو گئی ہے۔ فعال کیسز 33 ہزار 182 ہیں۔
ملک کا کورونا سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ ہے جہاں وائرس کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 46 ہزار 437 ہے اور سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 4 ہزار 436 افراد وائرس میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے۔ سب سے کم 102 افراد گلگت بلتستان میں جان کی بازی ہار گئے۔
چین سے کورونا ویکسین کی درآمد
پاکستان ائیر فورس کا طیارہ آج چین روانہ ہوا جو ویکسین لے کر کل وطن واپس پہنچے گا۔ پی آئی اے کی جگہ کورونا ویکسین لانے کیلئے پاک فضائیہ کا انتخاب کیا گیا تاہم کراچی میں طیارہ حادثے اور مشکوک لائسنسز کے معاملے پر عالمی سطح پر پائی جانے والی تشویش کے تناظر میں یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں لگتی۔
فضائیہ کا خصوصی طیارہ آئی ایل 78 آج نور خان ائیر بیس سے چین کیلئے روانہ ہوا۔ بیجنگ میں ویکسین کی حوالگی کیلئے خاص تقریب منعقد ہوگی۔ مہمانِ خصوصی چینی وزیرِ اعظم ویکسین پاکستانی وفد کے حوالے کردیں گے۔
وطن واپسی کے بعد کورونا ویکسین ای پی آئی کے مرکزی کولڈ اسٹور میں ذخیرہ ہوگی۔ ای پی آئی مرکز سے ویکسین پاکستان کے مختلف صوبوں کی طرف روانہ کی جائے گی۔
فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ کورونا ویکسین کی 5 لاکھ خوراکیں پہلی کھیپ کے ذریعے پاکستان پہنچائی جائیں۔ اس حوالے سے اسلام آباد، کراچی اور کوئٹہ میں ویکسین سنٹرز قائم ہیں جن کے ذریعے کورونا ویکسین لگانے کا آغاز کیا جائے گا۔
برطانیہ سے درآمد کا شیڈول
گزشتہ روز وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ کورونا ویکسین بھی جلد پاکستان پہنچنے والی ہے۔ آسٹرازینیکا سے پاکستان کورونا وائرس کی 1 کروڑ 70 لاکھ خوراکیں ملیں گی۔
اسد عمر کے بیان کے مطابق پاکستان میں برطانیہ سے کورونا ویکسین کی سپلائی کا آغاز فروری سے ہوگا۔ ڈیڑھ کروڑ سے زائد خوراکیں رواں برس کے پہلے 6 ماہ تک پاکستان میں دستیاب ہوں گی۔
ویکسینیشن کا آغاز، عطیہ اور مفت ویکسین
معاونِ خصوصی برائے امورِ صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق پاکستان میں آئندہ ہفتے سے کورونا کی ویکسینیشن شروع ہوجائے گی۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق سب سے پہلے ان ہیلتھ ورکرز کو یہ کورونا ویکسین لگائی جائے گی جو کورونا کے مقابلے میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہےہیں۔
گزشتہ ہفتے معاونِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے آگاہ کیا کہ چین نے پاکستان کیلئے 5 لاکھ کورونا ویکسین کی خوراکیں عطیے کے طور پر دی ہیں جو جلد پاکستان پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ ویکسین عوام کیلئے مفت ہوگی۔
یورپی یونین اور ویکسین پاسپورٹ کا مسئلہ
بعض ممالک جن کا تعلق یورپی یونین سے ہے، یہ خواہش رکھتے ہیں کہ جن شہریوں نے کورونا ویکسین لگوا لی ہے ان کو ویکسین پاسپورٹ جاری کیا جائے تاکہ وہ یورپی یونین کے ممالک میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے آجاسکیں اور سفری پابندیوں کا خاتمہ کردیا جائے۔
کورونا وائرس سے خوفزدہ بعض یورپی یونین ممالک کی رائے اس سے مختلف ہونے کے باعث ویکسین پاسپورٹ کے اجراء کا فیصلہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ کچھ ممالک کا انحصار سیاحتی شعبے پر ہے جو شعبے کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔
بعض یورپی حکومتیں ویکسین پاسپورٹ جاری کرکے شہریوں سے سفری پابندیاں ختم کرنے کے حق میں نہیں، جس سے یورپی یونین ممالک اس معاملے میں 2 گروہوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔
جاپان میں کورونا ویکسین کا آن لائن سسٹم
ظاہر ہے کہ کورونا ویکسین لگوانے کیلئے لوگ اگر ہزاروں کی تعداد میں کسی ایک جگہ جمع ہوجائیں تو کسی بھی حکومت کیلئے یہ بات قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔
ایسے میں جاپان نے کورونا ویکسین لگوانے کیلئے ایک آن لائن سسٹم تیار کر لیا۔ لائن نامی پیغام رسانی کی ایپ نے ایک آن لائن نظام تیار کیا جس کے تحت کورونا ویکسینیشن کے خواہش مند حضرات آمد سے قبل آن لائن بکنگ کراسکیں گے۔
مشہور شخصیات جنہوں نے کورونا ویکسین لگوا لی
اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے 28 جنوری کے روز کورونا ویکسین لگوائی۔ 14 جنوری کے روز یہ خبر بھی پاکستانی میڈیا پر نظر آئی کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کورونا ویکسین لگوائی ہے۔
قبل ازیں 3 جنوری کو یہ خبر بھی منظرِ عام پر آئی کہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے بعد سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر نے کورونا ویکسین لگوالی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین گزشتہ برس 3 نومبر کو لگوا لی اور کہا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ سب لوگ کورونا سے محفوظ اور صحت مند رہیں۔
جن مشہور شخصیات نے کورونا ویکسین لگوا لی ہے ان میں امریکی صدر جو بائیڈن کے علاوہ ملکۂ برطانیہ، شہزادہ فلپ اور سعودی عرب کے مفتئ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ بھی شامل ہیں۔
مملکتِ خداداد پاکستان میں ظہیر عباس، سرفراز نواز، وفاقی وزیر اعجاز شاہ اور معروف اداکارہ ریما خان بھی شامل ہیں جنہوں نے کورونا ویکسین لگوا کر عالمی وباء سے تحفظ پایا۔
لالی ووڈ فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ریما خان نے رواں ماہ 21 جنوری کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی۔ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہ پاکستان کی پہلی اداکارہ ہیں جنہوں نے ویکسین لگوائی۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس سب سے پہلے کورونا کی ویکسین برطانیہ میں لگائی گئی۔ برطانیہ میں 8 دسمبر 2020ء کے روز شمالی آئر لینڈ کی 90 سالہ خاتون مارگریٹ کینن کو ویکسین لگائی گئی تھی۔
صورتحال میں بہتری کے امکانات
دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی آمد کے بعد سے عالمی وباء کے باعث ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد میں اضافے کی خبروں سے پریشان عوام الناس آج صورتحال میں بہتری کے منتظر ہیں۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ کورونا ویکسینیشن بھی وائرس کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہے کیونکہ بعض اوقات ویکسینیشن کے بعد بھی لوگ دوبارہ کورونا کا شکار ہوجاتے ہیں، بہرحال ویکسینیشن سے کورونا کے ازالے کی امیدیں ضرور جنم لے رہی ہیں جو ذہنی اذیت اور معاشی مشکلات سے چھٹکارے کا اعلان ثابت ہوسکتا ہے۔