ہر شخص کو قانون کی حکمرانی کی پاسداری کرنی چاہیے، فروغ نسیم

تازہ ترین

تازہ ترین

ہر شخص کو قانون کی حکمرانی کی پاسداری کرنی چاہیے، فروغ نسیم
ہر شخص کو قانون کی حکمرانی کی پاسداری کرنی چاہیے، فروغ نسیم

کراچی: وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے حکومت ملک میں فوری انصاف کی فراہمی کےلیے فوجداری نظام عدل میں اصلاحات لارہی ہے۔ ملک میں ہر طاقتور شخص کا احتساب ہونا چاہیے۔

فیڈرل سروس ٹریبونل کی چھٹی قومی جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ اداروں کا احترام کیا جانا چاہیے اور ہر ایک کو قانون کی حکمرانی کی پاسداری کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اسٹیشن میں شکایت کنندہ کے بیان کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی تاکہ پولیس یا شکایت کنندہ کے بیان میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کو روکا جاسکے اور 9 ماہ کے اندر کسی بھی کیس کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں 

سارا ملک سبسڈی پر نہیں چل سکتا، وفاقی وزیر فواد چوہدری

اپوزیشن کی حکومت گرانے کی خواہش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔شاہ محمود قریشی

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ قانون میں اصلاحات کی وجہ سے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) کے افسران کو بھی مستقبل میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کا حصہ بنایا جائے گا۔ ایس ایچ او سطح کا آفیسر کم از کم بے اے پاس ہوگا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ہمارے اینٹی ریپ لا کی امریکا اور برطانیہ نے بھی تعریف کی ہے۔ خواتین اور بچوں کے کیسز میں مالی معاونت کی جائے گی، خاتون محتسب خواتین کے ملکیت کے مسائل حل کرائے گی۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وہ قانونی اصلاحات کے خلاف مزاحمت کے باوجود اپنی محنت جاری رکھیں گے۔ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے ماضی میں اچھے کام کیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کام ملک میں قوانین متعارف کروانا تھا اور ان پر عملدرآمد عدلیہ اور وکلاء برادری کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو اپنا فرض پوری ایمانداری سے ادا کرنا ہے۔ کوئی بھی ملک عدلیہ ، بار ایسوسی ایشنز ، فوج اور سول بیورو کریسی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس ہیلپ لائن ایک بہترین آئیڈیا ہے اور یہ نوجوان وکلاء کے مسائل کے حل کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

Related Posts