فصلیں تباہ اور گاؤں زیرِ آب؛ سندھ کے نشیبی علاقے فوری خالی کرنے کی ہدایت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں شدید بارشوں کے بعد بھورٹی کے قریب زمیندارہ بند ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ دیہات سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیلابی ریلے کے باعث سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جس سے مقامی کسانوں کو زبردست معاشی نقصان کا سامنا ہے۔

دوسری جانب دادو کے کچے علاقے میں ایک مکان منہدم ہونے کے باعث ایک خاتون اور اس کی تین سالہ بچی جاں بحق ہو گئیں۔ لاڑکانہ میں بھی خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، جہاں عاقل آگانی اور نصرت بند کے قریب کم از کم 20 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب

پنجاب کے تمام دریاؤں کا پانی سندھ میں شامل ہونے کے بعد دریائے سندھ میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔ گڈو بیراج پر اس وقت 6 لاکھ 12 ہزار 269 کیوسک پانی کی آمد اور 5 لاکھ 82 ہزار 942 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے اونچے درجے کا سیلاب قرار دیا گیا ہے۔

نشیبی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ ضلعی اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ متاثرہ آبادی کو فوری طور پر محفوظ علاقوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کندھکوٹ اور دیگر اضلاع میں صورتحال تشویشناک

کندھکوٹ کے کچے کے تمام علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں، جس سے خوراک کی ممکنہ قلت کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاک بحریہ کی امدادی کارروائیاں تیز

سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک بحریہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں کشمور، گھوٹکی، سکھر اور شکارپور میں سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ ٹیمیں ہوور کرافٹ، ریسکیو بوٹس اور ماہر غوطہ خوروں سے لیس ہیں جو مقامی آبادی کو ریسکیو کرنے اور امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

Related Posts