انہیں “سوبر ریو” کہا جاتا ہے، یہاں نیون لائٹس، موسیقی اور رقص سب کچھ ہوتا ہے، بس شراب اور منشیات نہیں ہوتیں۔ پاکستان کے جنوبی ساحلی شہر کراچی میں جنریشن زی نے رات کی زندگی کا ایک نیا انداز اپنا لیا ہے، جہاں محفوظ ماحول میں ہونے والی تقریبات تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نشے سے پاک سماجی سرگرمیوں کو ترجیح دے رہی ہے، جو صحت مند طرزِ زندگی کی طرف عالمی رجحان کا حصہ ہے۔
ملک میں مسلمانوں کے لیے شراب غیر قانونی ہے، اس لیے بغیر نشے کی تقریبات لوگوں کو کھلے انداز میں جشن منانے کا موقع دیتی ہیں، بغیر اس خوف کے کہ قانونی مشکلات یا پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑے جو ماضی میں خفیہ پارٹیوں پر سایہ فگن رہتی تھیں۔

کراچی کے کئی اسپورٹس کلب اب اس نوعیت کی تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں، جہاں رقص کے وقفوں کے دوران پیڈل کے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ یہ تقریبات تجرباتی پلیٹ فارمز کے ذریعے مقامی حکومتی اجازت کے ساتھ منعقد کی جاتی ہیں تاکہ شراب سے پاک اجتماعات کو فروغ دیا جا سکے۔
ان پروگراموں میں نگرانی کے لیے مانیٹرز اور ڈرونز استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ شراب نوشی، ہراسانی اور لڑائی جھگڑے جیسے مسائل کو روکا جا سکے۔ اسی طرز کی سرگرمیاں اب شہر کے کافی شاپس، آرٹ گیلریوں اور کوورکنگ اسپیسز میں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔

یہاں تک کہ صرف خواتین کے لیے مخصوص میوزک نائٹس بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو متوجہ کر رہی ہیں، جو ایک ثقافتی تبدیلی کی علامت ہیں، جہاں جدید نوجوانوں کی ثقافت مذہبی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہی ہے اور ہنگامہ خیزی کی جگہ ایک منظم اور پُرسکون ماحول لے رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








