مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوابی کارروائیوں کے بعد علاقائی فضائی حدود بند ہو گئی ہیں جس سے ایوی ایشن انڈسٹری شدید متاثر ہوئی ہے۔ متعدد اہم ایئرپورٹس بند یا محدود ہو گئے ہیں اور ہزاروں پروازیں منسوخ یا ملتوی ہو چکی ہیں۔ مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں اور سفر میں تاخیر اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایئر لائنز کا ردعمل
اتحاد ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ ابوظہبی سے آنے جانے والی تمام پروازیں پیر تک مکمل طور پر معطل رہیں گی کیونکہ متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود جزوی یا مکمل طور پر بند ہیں۔
قطر ایئرویز نے کہا کہ قطر کی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے اس کا پورا فلائٹ آپریشن معطل ہے۔ ایئر لائن کے مطابق قطری سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے فضائی حدود دوبارہ کھولنے کی اجازت ملنے کے بعد ہی پروازیں بحال کی جائیں گی۔ مزید اپ ڈیٹس پیر کو دوحہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے جاری کی جائیں گی۔
سعودی ایئرلائنز نے بھی اعلان کیا ہے کہ اپنے آپریشنز کو پیر کی رات 12 بجے تک معطل رکھا جائے گا، اور صورتحال کی بہتری پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایمرٹس ایئر لائن کے مطابق دبئی سے آنے جانے والی تمام پروازیں یکم مارچ کو دوپہر 3 بجے تک ملتوی کر دی گئی ہیں، اور اس کے بعد بھی مزید توسیع کا امکان ہے کیونکہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسے بڑے ہبز شدید متاثر ہیں۔
گلف ایئر نے بحرین کی فضائی حدود کی بندش اور علاقائی پابندیوں کی وجہ سے متعدد پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ ایئر عربیہ (Air Arabia) نے بھی متحدہ عرب امارات سے متعلق تمام پروازیں معطل کرنے کی تصدیق کی ہے۔
مسافروں کے لیے ہدایات
تمام ایئر لائنز نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ سفر سے پہلے اپنی پروازوں کی تازہ ترین صورتحال متعلقہ ایئر لائن کی ویب سائٹ یا ایپ سے ضرور چیک کریں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مزید منسوخیوں کا امکان موجود ہے۔
یہ فضائی بحران مشرق وسطیٰ کے اہم ہوائی راہداریوں کو متاثر کر رہا ہے جو یورپ، ایشیا اور افریقہ کو جوڑتی ہیں اور اس سے عالمی سطح پر پروازوں میں تاخیر، تبدیلیاں اور منسوخیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








