ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بار ایران کے وجود کو مٹانے کی دھمکی دی ہے، جس کا مطلب خدانخواستہ ایٹمی حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر خدشات کو جنم دیا ہے کہ ایٹمی ہتھیار کس حد تک تباہی لا سکتے ہیں اور اس سے بچاؤ کے کیا طریقے ہیں۔
امریکی صدر کے پاس ایٹمی حملے کا اختیار ہے؟
امریکی صدر کے پاس دنیا کے سب سے طاقتور ایٹمی ہتھیار رکھنے کا اختیار ہے۔ ہزاروں ایٹمی ہتھیار بم اور میزائل کی صورت میں موجود ہیں، جو آبدوزوں سے لے کر پہاڑوں کے نیچے خفیہ طور پر رکھے گئے ہیں۔ صدر کا ایک اشارہ کافی ہے کہ یہ میزائل چند منٹ کے اندر اپنے ہدف کی جانب روانہ ہو جائیں۔
امریکی صدر کے ساتھ ہمیشہ ایک چمڑے کا بریف کیس رہتا ہے، جسے ‘نیوکلیئر فٹ بال’ کہا جاتا ہے۔ اس میں وہ مشینیں موجود ہیں جن کے ذریعے صدر اسٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ اور نائب صدر سمیت مخصوص افراد سے رابطہ کر کے ایٹمی حملے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ صدر کے پاس ایک پلاسٹک کارڈ بھی ہوتا ہے، جسے ‘بسکٹ’ کہا جاتا ہے، یہی کارڈ صدر کو ایٹمی حملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
اگر کوئی صدر بغیر وجہ کے ایٹمی حملے کا حکم دے دے، تو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ اس حکم کو روکنے کی طاقت رکھتے ہیں، لیکن ایسے مواقع بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ عموماً متعلقہ اہلکار صدر کے حکم کی پیروی کرنے کی تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔
ایٹمی حملے سے کتنی تباہی پھیلتی ہے؟
ایٹمی حملے کی تباہی ناقابل تصور ہے۔ فوری طور پر لاکھوں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں، شہر مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں اور تابکاری (Radiation) دہائیوں تک انسانی زندگی اور صحت کو متاثر کرتی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں 1945 میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ آج کے ہائیڈروجن بم ان سے کئی گنا زیادہ تباہ کن ہیں۔ دھماکے کے مرکز میں درجہ حرارت 4000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، اور عمارتیں، پل اور انفراسٹرکچر مٹی کے ڈھیر میں بدل جاتے ہیں۔
تابکاری فضا میں پھیل کر کینسر، جینیاتی نقائص اور فوری موت کا سبب بنتی ہے۔ دھوئیں اور راکھ کے بادل سورج کی روشنی روک کر “نیوکلیئر ونٹر” اور عالمی قحط کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ ہسپتال، مواصلات اور بجلی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو جاتا ہے، جس سے انسانی زندگی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔
ایٹمی حملے کی صورت میں بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ایٹمی حملے کی صورت میں بچاؤ کے لیے فوری چھپنے کی ضرورت ہے۔ اگر ممکن ہو تو کسی عمارت کے تہہ خانے میں جا کر وہاں رہیں۔ اگر زیر زمین جگہ دستیاب نہ ہو، تو کسی بڑی عمارت کے اندرونی حصے میں جائیں جہاں اینٹوں اور کنکریٹ کی کافی دیواریں موجود ہوں۔ حکومت کی طرف سے اضافی ہدایات آنے تک اسی جگہ پر رہیں اور ہر قدم احتیاط سے اٹھائیں۔
یہ صورتحال عالمی امن اور سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اور کسی بھی لمحے ہونے والا ایٹمی حملہ پوری دنیا کے لیے ناقابل تصور تباہی لا سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








