کائنات کے آغاز کی کھوج، سائنسدانوں نے تاریک مادّے کا راز معلوم کرلیا

تازہ ترین

تازہ ترین

سائنسدانوں نے کائنات کے آغاز کی تحقیق کے دوران تاریک مادّے کے اہم راز اور کائنات میں مادّے کی تقسیم کے مابین تعلق معلوم کر لیا ہے جس سے اہم انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹورنٹو یونیورسٹی کے محققین نے تاریک مادّے اور کائنات میں مادّے کی تقسیم کے مابین ایک نیا تعلق ڈھونڈ نکالا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات میں موجود کہکشاؤں کو تاریک مادّے نے گھیر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 

آواز سن کر ترجمہ لکھنے والا ’وائس باکس‘ پیش 

ٹورنٹو یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر تاریک مادّے کی تقسیم کو کلمپی نیس پرابلم کہتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ تاریک مادّہ ایگزیون نامی انتہائی لطیف ذرّات پر مشتمل ہے۔

ایگزیون نامی یہ لطیف ذرّات کائنات کے متعلق فلکیات دانوں کی پہلے سے موجود بصیرت کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ایگزیون کی مدد سے اسٹرنگ تھیوری کی حمایت بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

اسٹرنگ تھیوری کے مطابق کائنات کے بنیادی تعمیراتی بلاکس نقطہ نما ذرّات نہیں بلکہ مرتعش ڈوریاں ہیں جو مختلف مرتعش نمونے رکھتی ہیں جبکہ فوٹون اور الیکٹران ان بنیادی ڈوریوں کے ارتعاش کے الگ الگ انداز ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ تاریک مادّہ کائنات کی کل کمیت کا 85 فیصد تشکیل دیتا ہے تاہم روشنی کا کوئی ردِ عمل نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے دیکھ نہیں سکتے۔ تحقیق کے ان نتائج کیلئے محققین نے کاسمک مائیکروویو بیک گراؤنڈ کا مطالعہ کیا۔

فلکیات دانوں نے تحقیق کے نتائج حاصل کرنے کیلئے کہکشانی کلسٹرنگ سروے سے بھی مدد لی تاکہ مادّے کی تقسیم کا جائزہ لے کر تاریک مادّے کے متعلق اہم سوالوں کے جواب تلاش کیے جاسکیں جبکہ نتائج کی حمایت کیلئے کمپیوٹر سیمولیشن سے بھی مدد لی گئی۔ 

 

Related Posts