اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈسکہ ضمنی انتخاب انکوائری رپورٹ پر کہا ہے کہ آج سب سے بڑا امتحان ملک کی عدلیہ کا ہے، عدلیہ نے ماضی میں ایکشن لیے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری ناقص رائے میں اس عمل پر آرٹیکل 6 لگتا ہے،اگر انکوائری رپورٹ کو غیر سنجیدگی سے لیا گیا تو مجھے امید نہیں ہے کہ ملک کے حالات کبھی ٹھیک ہوسکیں گے،پولیس انتخابی عملے کی حفاظت نہیں،اغوا کررہے تھے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر انکوائری رپورٹ کو غیر سنجیدگی سے لیا گیا تو مجھے امید نہیں ہے کہ ملک کے حالات کبھی ٹھیک ہوسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین وفاق اور صوبے کے تمام اداروں کو پابند کرتا ہے کہ وہ انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدار کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کی مدد کریں جبکہ ڈسکا ضمنی انتخاب سے متعلق انکوائری رپورٹ میں ووٹ چوری کرنے کے لیے پوری سازش تیار کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کے گھر میں ایک اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کے رہنما شریک تھے اور ضمنی انتخاب میں ووٹ چوری کرنے کے طریقہ کار کو واضح کیا گیا۔
انہوں نے ڈسکہ ضمنی انتخاب انکوائری رپورٹ سے مختلف اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس انتخابی عملے کی حفاظت نہیں بلکہ اغوا کررہے تھے‘ ہمارے ملک کے صوبہ پنجاب میں الیکشن کی یہ صورتحال ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ تعلیم انتخابی کرپشن کا حصہ بنے لیکن کیا یہ بات ادھر ہی ختم ہوتی ہے؟ اور بات دراصل وزیر اعظم عمران خان اور وزیرا علیٰ پنجاب عثمان بزدار پر جاتی ہے، انہیں جواب دینا ہوگا۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن 133 صفحات پر مشتمل ڈسکہ ضمنی انتخاب کی انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرے گا اور سخت ایکشن لے گا۔
انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ عدلیہ ڈسکہ انکوائری رپورٹ پر ازخود نوٹس لے گی، اس پر وہ کارروائی کریں گے جس کے بعد پاکستان میں کسی کو ووٹ چوری کرنے کا خیال بھی نہ آئے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر آج عدلیہ کچھ کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کا امتحان ہے، اگر عدلیہ عمارتوں، زمینوں، شادی ہالز کی رپورٹس منگواسکتی ہے تو یہ معاملہ تو ڈاکا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈسکہ رپورٹ آ چکی، اب عمران نیازی استعفیٰ دیں، شہباز شریف
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








