راولپنڈی: سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید کے نام قومی احتساب بیورو (نیب) نے تحریری نوٹس بھیجا جو ایک سال قبل انتقال کر جانے والے شخص نے وصول کر لیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے اپنے وکیل کی جانب سے نیب کو تحریر کیا گیا خط شیئر کردیا جس میں انکوائری آفیسر کو آگاہ کیا گیا ہے کہ شیخ رشید کو نیب کا کوئی تحریری نوٹس نہیں ملا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا اسد عمر کو رہا کرنے کا حکم
ٹوئٹر پیغام میں جاری کردہ خط میں کہا گیا کہ نیب کا تحریری نوٹس جس شخص بابو ریاض سے تعمیل کرایا گیا، وہ 1 سال قبل فوت ہوچکا ہے۔ شیخ رشید احمد کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کو القادر ٹرسٹ کیس میں بطور گواہ طلب کیا گیا ہے۔
— Sheikh Rashid Ahmed (@ShkhRasheed) May 24, 2023
جاری کردہ خط میں کہا گیا کہ اس وقت پولیس شیخ رشید کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی ہے۔ ان کی والدہ کے گھر میں بھی پولیس اور سرکاری ایجنسیوں نے توڑ پھوڑ کی ہے۔ شیخ رشید کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے نامعلوم جگہ سے رابطہ کیا۔
وکیل کی جانب سے تحریر خط میں کہا گیا ہے کہ مجھے شیخ رشید احمد نے ہدایات دی ہیں کہ ان کی طرف سے نیب میں پیش ہوجاؤں۔ شیخ رشید پیش نہیں ہوسکتے۔ کابینہ میں 55 سے زائد وزیر تھے۔ کابینہ میٹنگ کا ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے۔
نیب کو آگہی دیتے ہوئے شیخ رشید کے وکیل کا خط میں کہنا ہے کہ القادر ٹرسٹ کے معاملے سے سابق وزیرِ داخلہ کا کوئی تعلق نہیں۔اگر نیب کو ضرورت ہوگی تو شیخ رشید تفصیلی جواب آئندہ کسی تاریخ پر پیش ہو کر دے دیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








