اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اسد عمر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

اسد عمر
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر اسد عمر کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی گرفتاری ایم پی او کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔مقدمات کی تفصیلات فراہمی اور گرفتاری کے متعلق کیس کی سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی۔ پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:

کروڑوں کا اسکینڈل، تحریکِ انصاف کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ جن 2 کیسز میں ضمانت کی استدعا کی گئی، اس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ رہنما پی ٹی آئی اسد عمر بیانِ حلفی جمع کرائیں، خلاف ورزی ہوئی تو سیاسی کیرئیر بھول جائیں۔ عدالت نے اسد عمر کی رہائی کا حکم جاری کردیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ اسد عمر اپنے ٹوئٹر پیغامات بھی ڈیلیٹ کردیں۔ ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ جب تک پی ٹی آئی رہنما پریس کانفرنس نہیں کرتے، وہ ان کو چھوڑنے والے نہیں، بابر اعوان نے کہا کہ ہم پریس کانفرنس نہیں کریں گے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دئیے کہ اسد عمر اپنے 2 ٹویٹس فوری ڈیلیٹ کریں۔ بابر اعوان نے کہا کہ اگرچہ یہ خبر ہے، تاہم حکم کی تعمیل ہوگی۔ معزز جج اسد عمر کو اِس عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیں۔

معزز جج میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دئیے کہ اسد عمر کے خلاف کیسز میرے سامنے ہیں، اگر کوئی آرڈر کردوں تو معلوم نہیں کل کیا ہوگا۔بابر اعوان نے کہا کہ ہماری خواہش ہے ہمیں 2 دن دئیے جائیں۔ رہائی پر متعلقہ عدالت میں سرینڈر کریں گے۔

بابر اعوان نے کہا کہ کریمنل کیسز میں حفاظتی ضمانت کی خواہش ہے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے شاہ محمود قریشی کو بھی بیانِ حلفی جمع کرانے کا کہا۔ اس میں یہی تھا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ 

Related Posts