انڈونیشیا میں جکارتہ کے قریب ایک ہولناک ٹرین حادثے 14 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہیں۔ منگل کے روز حکام نے تصدیق کی کہ اس سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 14 ہو چکی ہے جبکہ 81 افراد زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ افسوسناک حادثہ پیر کی رات بیکاسی کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایک مسافر بردار ٹرین اور ایک طویل فاصلے تک سفر کرنے والی ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔
انڈونیشیا کے سرچ اینڈ ریسکیو ادارے کے سربراہ محمد سیافی نے صبح سویرے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں کو شدید نقصان زدہ ڈبوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے نہایت احتیاط سے کام کرنا پڑ رہا ہے۔
سیافی کے مطابق امدادی کارکن دھات کو کاٹنے کے لیے اینگل گرائنڈر جیسے آلات استعمال کر رہے ہیں تاکہ زندہ بچ جانے والوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ سرکاری ریلوے کمپنی پی ٹی کے اے آئی کے سربراہ بوبی راسیدین نے 14 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسافر ٹرین نے پٹری پر موجود ایک ٹیکسی کو ٹکر ماری جس کے بعد سامنے سے آنے والی دوسری ٹرین نے اسی مسافر ٹرین کے خواتین کے لیے مخصوص ڈبے کو نشانہ بنایا۔



گرین ایس ایم انڈونیشیا جو ویتنام کی الیکٹرک ٹیکسی سروس کمپنی گرین اینڈ اسمارٹ موبلٹی جے ایس سی کی مقامی شاخ ہے نے انسٹاگرام پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں شامل ٹیکسی ان کی کمپنی کی تھی اور انہوں نے تحقیقات میں مدد کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری معلومات فراہم کر دی ہیں۔
انڈونیشیا کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی کمیٹی (کے این کے ٹی)نے اس حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم حکام کی جانب سے فوری طور پر حادثے کی وجوہات یا زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








