ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2300سے تجاوز کر گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

انقرہ: ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2300 سے تجاوز کر گئی ہے۔ 5 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو کی کارروائیاں جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں آفٹر شاکس سے مزید نقصانات ہوئے۔ شام میں 326 جبکہ ترکیہ میں زلزلے سے 912 افراد جاں بحق ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکڑوں کثیر المنزلہ عمارتیں گرنے سے ہزاروں افراد ملبے تلے دب گئے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7 اعشاریہ 9 جبکہ گہرائی 17 اعشاریہ 9 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے غازیان کے علاقے نردوی کے قریب بتایا گیا ہے۔

اردن، شام، قبرص اور یونان کی سرزمین بھی زلزلے کے شدید جھٹکوں سے لرز اٹھی۔ متعدد عمارات ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں۔ سوشل میڈیا پر زلزلے سے گرنے والی عمارات کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جارہا ہے۔ طبی امداد کیلئے درجنوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ زلزلے سے سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ ہوجانے کے باعث ریسکیو ورکرز کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔ ترکی نے عالمی برادری سے امداد طلب کرلی۔

 وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور شام میں زلزلے کی رپورٹس پر شدید تشویش ہے، ہم ہر طرح کی امداد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے یو ایس ایڈ اور وفاقی حکومت کے اداروں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ ہم ترکی کی حکومت کے ساتھ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ترکیہ میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کے تصویری مناظر

ترکی میں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر وزیر اعظم شہباز شریف، ن لیگ کی سینئر نائب صدر مریم نواز اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مشکل کی اس گھڑی میں ہر ممکن تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Related Posts