انڈیا میں خدا کے وجود کے موضوع پر ایک عالم دین نے ممتاز فلمی نغمہ نگار جاوید اختر کو ڈیبیٹ کا چیلنج دے دیا ہے، جس کی تاریخ طے پا گئی ہے اور اب سب کی نظریں اس تاریخ پر مرکوز ہیں۔
وجودِ باری تعالیٰ کے اس تاریخی مناظرہ میں مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی اور جاوید اختر حصہ لیں گے، جبکہ پروگرام کی میزبانی معروف صحافی ابھیسار شرما کریں گے۔ ڈیبیٹ کا اعلان اسلامی اسکالر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اپنے فیس بک پیج پر کیا اور امید ظاہر کی کہ ایک بار پھر دین اسلام کے بلند ہونے کا منظر دیکھنے کو ملے گا۔
مفتی شمائل نے بتایا کہ کئی دنوں سے جاوید اختر سے ای میل کے ذریعے رابطہ جاری رہا اور مختلف شرائط کے ساتھ مناظرہ کی تفصیلات طے ہوئیں۔ ان کے مطابق کچھ شرائط غیر ضروری اور موضوع سے ہٹی ہوئی تھیں، جن پر اختلاف ہوا۔
جاوید اختر کی پہلی شرط یہ تھی کہ ڈیبیٹ سے قبل وہ جمعیۃ علماء کی مذمت کریں، جسے مفتی شمائل نے مسترد کیا اور کہا کہ شدت پسندی کی مذمت کی جا سکتی ہے لیکن پوری تنظیم کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں۔ دوسری شرط میں انہوں نے دہلی کو مناظرہ کی جگہ تجویز کی اور کہا کہ کلکتہ میں ماحول متنازع ہو سکتا ہے جبکہ ممبئی مناسب نہیں، جس پر بالآخر دہلی پر اتفاق ہوا۔
تیسری شرط یہ تھی کہ پروگرام آرگنائزر جاوید اختر کی فراہم کردہ لسٹ میں سے منتخب ہونا چاہیے، جس پر مفتی شمائل نے کہا کہ شفافیت کے لیے ایک تنظیم جاوید اختر کی طرف سے اور ایک ان کی طرف سے مشترکہ طور پر پروگرام آرگنائز کرے۔ چوتھی شرط کے مطابق عام پبلک کو سامعین میں شامل نہیں کیا جائے گا، مگر سامعین دونوں اطراف سے مساوی تعداد میں ہوں گے۔ پانچویں شرط یہ تھی کہ ڈیبیٹ کی ویڈیو بغیر ایڈٹ کے دونوں فریقین کو فراہم کی جائے، جس پر مکمل اتفاق ہوا۔
پروگرام مفتی شمائل عبداللہ کے آفیشل یوٹیوب چینل پر براہِ راست نشر کیا جائے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مناظرہ علمی اور فکری حلقوں کے لیے بے حد دلچسپی کا باعث بنے گا۔
واضح رہے کہ جاوید اختر علانیہ طور پر ملحد اور کسی بھی مذہب پر ایمان نہیں رکھتے اور آئے دن مذاہب پر تنقید کرتے رہتے ہیں، جبکہ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جاوید اختر انیسویں صدی کے عظیم عالم دین علامہ فضل حق خیر آبادی کی بیٹی کے پڑ پوتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








