اسلام آباد: عدالتِ عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرِ ثانی کیس میں ججز کے بینچ کی تشکیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جبکہ درخواست گزاروں نے 6 رکنی بینچ پر نقطۂ اعتراض اٹھایا تھا۔
عدالتِ عظمیٰ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرِ ثانی کیس کی آج کی گئی سماعت کے دوران وکیل لطیف آفریدی کو سپریم کورٹ بار کے دلائل تحریری صورت میں بھجوانے کی ہدایت کی گئی، بعد ازاں کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہو گئی۔
سپریم کورٹ بار کے صدر نے گزشتہ سماعت کے دوران کہا کہ نظرِ ثانی درخواستوں پر فیصلہ کرنے والا 10 رکنی بینچ کیس کی سماعت کا حق رکھتا ہے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نظرِ ثانی کیس میں فیصلے میں غلطی کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
بنچ میں شامل جج جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی خاص کیس کی نہیں بلکہ اصول کی بات ہے۔ اگر جج کی شمولیت ضروری ہے تو تمام کیسز میں ہی ضروری سمجھی جائے۔
وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ اگر ممکن ہو تو وہی بینچ نظرِ ثانی کیس میں فیصلہ کرے۔سرینا عیسیٰ نے کہا کہ اصل کیسز کے تمام ججز بینچ میں شامل ہوں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ہدایت کی کہ سرینا عیسیٰ کو کسی قابل وکیل سے معاونت لیں۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا اختلافی نوٹ سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ صدرِ مملکت نے سمری بھیجنے سے قبل دماغ استعمال نہیں کیا۔
جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منصور نے الگ الگ اختلافی نوٹس تحریر کیے۔ جسٹس مقبول باقر نے نومبر کی ابتداء میں منظرِ عام پر آنے والے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو غیر قانونی طریقے سے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔
مزید پڑھیں: صدر نے دماغ استعمال نہیں کیا، جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں اختلافی نوٹ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








