پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے صوبائی انتظامیہ نے لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کے پی کے حکومت کے ترجمان کامران بنگش کا کہنا ہے کہ مردان میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح باقی اضلاع کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے مردان میں ایک ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کامران بنگش کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کا نفاذ کل سے شروع ہو گا جو اگلے 7 روز تک جاری رہے گا۔ کورونا ایس او پیز کے تحت تمام اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز بند رہیں گی جبکہ سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر میں حاضری 50 فیصد ہو گی۔ ملازمین کے دوران ڈیوٹی ماسک پہننا لازمی ہوگا اور سماجی فاصلوں کو خیال رکھا جائے گا۔
ترجمان خیبرپختون خوا حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی رہے گی تاہم اشیائے خوردونوش، میڈیسن اور دیگر اشیائے ضرور یہ کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ تاہم دکاندار حضرات اپنے صارفین سے کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے پابند ہوں گے۔
دوسری جانب وزیر صحت خیبرپختونخوا تیمورجھگڑا کا کہنا ہے کہ کورونا کی حالیہ لہر میں مریضوں کی تعداد 3 گنا زیادہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوام سے ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔